سینیٹ میں کیا ہوا؟

فائل فوٹو

اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں رکن سینیٹ ولید اقبال ایوان بالا کا احترام بھول گئے اجلاس کی کاروائی کے دوران چیونگم چباتے رہے جس پر چیئرمین سینیٹ نے رکن سینیٹ ولید اقبال کو دو بار تنبیہ کی،،چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر رحمان ملک کو موبائل فون استعمال کرنے پر وارننگ دی، سینیٹر مشاہد اللہ ٹک ٹاک سٹارز حریم شاہ اور صندل خٹک کا تذکرہ چھیڑ بیٹھے جبکہ
سینیٹر دلاور خان نے سینیٹر اورنگزیب اورکزئی کے ساتھ خیبرپختونخوا ڈائریکٹر فوڈ کی ہاتھا کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈائریکٹر فوڈ خیبرپختونخوا کے معطل کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا،

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں سینٹ اجلاس ہوا، اجلاس میں رکن سینیٹ ولید اقبال چیونگم چباتے رہے جس پر چیئرمین سینیٹ نے دو بار ولید اقبال کو تنبیہ کی اور کہا ولید اقبال صاحب آپ ایوان میں چیونگم چبا رہے ہیں، آپ پارلیمان کی روایات کو مت توڑیں، سینٹر ولید اقبال ایوان میں موبائل فون بھی استعمال کرتے رہے جسکی وجہ سے چیئرمین سینیٹ کو سو بار تنبیہ کرنا پڑی چیئرمین سینیٹ نے کہا میں آپ کا موبائل ضبط کرلوں گا،

سینٹر ولید اقبال کے بعد سینٹر رحمان ملک نے بھی ایوان میں موبائل کا استعمال شروع کر دیا
چئیرمین سینٹ نے رحمان ملک کو بھی موبائل ضبط کرنے کی وارننگ دی

سینیٹر مشاہد اللہ خان نے تقریر کرتے ہوئے ٹک ٹاک سٹارز کا تذکرہ چھیڑا کہا کہ آپ ریاست مدینہ کا نام بدنام کررہے ہیں آپ تو ریاست کوفہ سے بھی بدتر ہیں ثاقب نثار جیسے بندے نے آپ کو صادق اور امین قرار دیا ریاست مدینہ میں حریم شاہ اور صندل خٹک کا کیا کام ہے؟
مشاہد اللہ نے عمران خان پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے خود بتایا 1989 میں شوکت خانم کو نوازشریف نے 50 کروڑ روپے اور زمین دی اس کا مطلب ہے کہ شوکت خانم عمران خان نے نہیں بنایا بلکہ صرف اپنی تختی لگائی

سینیٹر دلاور خان نے ایوان بالاء میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم خود قانون بناتے ہیں اور خود ہی شکار ہوتے ہیں سینیٹر اورنگزیب اپنے ایجسنی کےعوام کے لئے گندم کا کوٹہ لینے گئے لیکن خیبرپختونخوا ڈائریکٹر فوڈ نے سینیٹر اورنگزیب اورکزئی سے ہاتھا پائی کی
تاہم چئیرمین سینیٹ اور قائدایوان کے خط کے باوجود ڈائریکٹر فوڈ کے خلاف ایکشن نہیں ہوا، سینیٹر دلآور خان نے مطالبہ کیا کہ سینیٹر اورنگزیب اورکزئی کے واقعے پر کوئی کمیٹی بنائی جائے اور ڈائریکٹر فوڈ کو معطل کرنے کی رولنگ دی جائے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے جواب دیا کہ سینیٹر اورنگزیب اورکزئی کے معاملے پر انکوائری چل رہی ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/02/

متعلقہ خبریں

Leave a Comment