آرمی ایکٹ: جے یو آئی کے بعد تین اور پارٹیز نے مخالفت کا فیصلہ کر لیا


اسلام آباد: جمیعت علمائے اسلام (ف) کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی ایکٹ کی مخالفت کے فیصلے کے بعد تین اور جماعتوں نے آرمی ایکٹ کی مخالفت کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے بعد جماعت اسلامی، بلوچستان کی نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) نے آرمی ترمیمی ایکٹ سے لاتعلق رہنے کا اعلان کر دیا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی آرمی ایکٹ میں حکومت کا نہیں اصولوں کا ساتھ دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہر قانون میں ذات اور پارٹی کے مفادت کی بجائے عوام اور ملک کے مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔

مزید پڑھیں: آرمی ترمیمی ایکٹ؛ جمیعت علمائے اسلام نے مخالفت کا فیصلہ کر لیا

دوسری جانب پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان خان کاکڑ اور نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر میر حاصل بزنجو نے پارلیمنٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں میر حاصل بزنجو نے کہا کہ ہم نے پوری تاریخ نکالی، دنیا میں جنگیں ہوئیں پر کبھی کسی آرمی چیف کو توسیع نہیں ملی۔ پارلیمنٹ، نیشنل اسمبلی اور سینیٹ کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی نہیں ہو سکتی۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی اس قانونی جرم کا حصہ نہیں بنے گی۔ اس موقع پر سینیٹرعثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ہم دونوں ایوانوں میں اس بل کی مخالفت کریں گے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/03/2273 

Leave A Reply

Your email address will not be published.