پاکستان آرمی ترمیمی ایکٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا


اسلام آباد: قومی اسمبلی میں حکومت نے آرمی، نیوی اور ایئرفورس ایکٹس میں ترمیم کے بل پیش کر دئیے ہیں۔ پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی ترمیمی بل وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے الگ الگ پیش کیے گئے۔ تینوں ترمیمی بل مزید غور و خوض کے لیے قائمہ کمیٹی کو بھجوا دئیے گئے ہیں۔ بل قائمہ کمیٹی کو بھجواتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا۔ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ وقفہ سوال کو موخر کیا جائے۔ انہوں نے زیر حراست اراکین کے پروڈکشن آرڈرز آج ہی جاری کرنے کا مطالبہ ایوان کے سامنے رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی، سعد رفیق اور خورشید شاہ کی ایوان میں حاضری لازمی بنائی جائے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔ آرمی ایکٹ متعارف کرواتے ہوئے پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی ترمیمی بل الگ الگ پیش کیے گئے۔ قومی اسمبلی نے تینوں ترمیمی بل مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی کو بھجوا دئیے۔

اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ کل کے اجلاس میں بھی وقفہ سوالات نہیں ہوگا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: آرمی ایکٹ ترمیمی بل؛ مسودہ منظر عام پر آ گیا

اجلاس کے بعد قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ  پارلیمانی قواعدوضوابط کے تحت قانون سازی ہوئی تو ساتھ دیں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ بل پہلے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بھیجا جائے گا جس کے بعد یہ معاملہ ایوان میں زیرِ غور آئے گا۔ یاد رہے بلاول بھٹو نے اس سے قبل کہا تھا  کہ پیپلزپارٹی کی حمایت کیلئے پارلیمانی طریقہ کار اپنانا ہوگا۔ معاملے پر پارلیمانی طریقے پر چلنا کامیابی ہے۔ اہم بل بھی پارلیمانی طریقہ کار کے بغیر پاس ہوں گے تونقصان ہوگا۔

دوسری طرف سرکاری ٹی وی کے نظام میں خرابی کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس پارلیمنٹ  کی ہاوس سکرینز پر نہیں دکھایا جا سکا۔

واضح رہے پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2020 کے عنوان سے قانون سازی میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان (چیف آف آرمی اسٹاف، چیف آف ایئر اسٹاف اور چیف آف نیول اسٹاف) کے ساتھ ساتھ چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی زیادہ سے زیادہ عمر 64 برس طے کی جائے گی۔ وزیراعظم کو مستقبل میں تینوں مسلح افواج میں کسی بھی سربراہ کی عمر 60 برس ہونے پر کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد توسیع دینا کا حق حاصل ہوگا اور وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدرِ مملکت کو اس کی حتمی منظوری دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔

 

آئی ڈی: 2020/01/03/2188 

Leave A Reply

Your email address will not be published.