صدر ٹرمپ کے حکم پر بغداد میں امریکی حملہ؛ ایرانی افواج کے سینئر کمانڈر جاں بحق

فائل فوٹو

بغداد: فضائی حملے میں ایران کے سینئر کمانڈر قاسم سلیمانی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ایک غیر ملکی اخبار کے مطابق بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل داغے گئے جس میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ پیراملٹری فوجی دستے کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فائر کیے گئے میزائل سے سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ عہدیدار نے الزام لگایا کہ اس حملے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل، عراق کے سیکیورٹی میڈیا سیل نے کہا تھا کہ کٹیوشا راکٹ ہوائی اڈے کے کارگو ہال کے قریب گرے جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے اور دو کاروں کو آگ لگ گئی۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ میزائل کس کی جانب سے فائر کیا گیا یا اس کا ہدف کیا تھا۔ پاپولر موبلائزیشن فورس (پی ایم ایف) کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ یہ حملہ مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ سی این این پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پینٹاگان کے ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا گیا ہے کہ اس حملے کا حکم براہ راست صدر ٹرمپ نے دیا اور اس کا مقصد بیرون ملک تعینات امریکی افواج کے اہلکاروں کا تحفظ اور مسقبل میں ایران کی جانب سے کسی ممکنہ حملے سے اسے باز رکھنا ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں جس کے باعث ان کی شناخت میں مشکلات درپیش آ رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: عراق میں امریکی تنصیبات پر حملہ۔۔ امریکہ نے ایران کو دھمکی دے دی

تاہم ایک سینئر سیاستدان نے بتایا ہے کہ ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی لاش کی شناخت ان کے انگلی میں موجود انگوٹھی کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے اس امکان کا بھی اظہار کیا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ ہلاک ہونے والا افسر ہمسایہ ممالک سے آنے والے اعلیٰ وفود کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر موجود ہو۔
واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے عراق میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے بعد آج (جمعہ) سے شروع ہونے والا یوکرین اور دیگر 4 ممالک کا ایک ہفتے کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق بظاہر یہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی جانب سے نئے سال کے موقع پر بغداد میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بغداد میں امریکی سفارتخانے پر اس حملے کے بعد ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ ایران کو اس حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
دوسری طرف ایران نے اپنے کمانڈر کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔ ایرانی صدر نے اس حملے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور خطے کی آزادقومیں اس شہادت کا بدلہ لیں گی۔ ایران کے آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے کمانڈر کی ہلاکت پر ایران بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔  امریکی حملے کے بعد چین نے دونوں ممالک کو ضبط و تحمل سے کام لینے کا مشورہ دے دیا ہے۔ 

دوسری جانب اس امریکی حملے کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے سرمایہ کار تذبذب کا شکار نظر آ رہے ہیں اور بین االاقوامی مارکیٹس میں تیل کی قیمت میں اضافہ متوقع ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/03/2168

متعلقہ خبریں

Leave a Comment