آرمی ترمیمی ایکٹ؛ نواز شریف کا مبینہ خط سامنے آ گیا

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے منظر عام پر آنے والے ایک مبینہ خط میں انہوں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے منظور کیے گئے آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر پارٹی کو اہم ہدایات جاری کر دیں ہیں۔

نجی ٹیلی ویژنز پر آنے والی رپورٹس کے مطابق لندن روانگی کے بعد نوازشریف نے اپنے پہلے مبینہ بیان میں خواجہ آصف کو تحریری ہدایات جاری کیں ہیں اور کہا کہ اہم بل 24 یا 48 گھنٹوں میں منظور نہیں کیے جاتے، لہٰذا آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے لیے کم سے کم یہ ٹائم فریم اپنایا جائے کہ بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے اور سٹینڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جلدبازی نہ کریں اور پروسیجرز بلڈوز نہ کریں۔ اتنا اہم بل منظور کرنے کے لیے پارلیمنٹ کو ربر اسٹیمپ جیسا نظر نہیں آنا چاہیے۔ حکومت پر زور دیا جائے کہ پارلیمانی اقدار اپنائی جائیں اور بل پر مثبت انداز سے دیکھاجائے گا۔ مگر پارلیمنٹ کی توقیر پر سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔

مبینہ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی پارلیمانی پارٹیوں کا سیشن بلائیں اور بل پر غور کریں۔ پارلیمانی اقدار کا مناسب خیال نہ رکھا گیا تو اثرات تمام سیاسی جماعتوں پر پڑیں گے۔ میاں نواشریف کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کہ حکومت بل قومی اسمبلی میں پیش کرے۔ ن لیگ اپنی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ بلائے۔  تمام اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کو ان ہدایات سے آگاہ کیا جائے۔

دوسری جانب سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اس خط سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس خط سے متعلق علم نہیں ہے۔

نواز شریف کی جانب سے لکھا گیا مبینہ خط
نواز شریف کی جانب سے لکھا گیا مبینہ خط
آئی ڈی: 2020/01/03/2182 

اپنا تبصرہ بھیجیں