آرمی ترمیمی ایکٹ؛ جمعیت علمائے اسلام نے مخالفت کا فیصلہ کر لیا

Maualana-Fazlur-ur-Rahman-JUIF

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام کا آرمی ایکٹ ترمیم کی مخالفت کا فیصلہ  کر لیا ۔ آرمی ترمیم ایکٹ میں ترمیم کی مخالفت کا فیصلہ جمعیت علماء اسلام (ف) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس  میں کیا گیا۔

تفصیلات کےمطابق جمیعت علمائے اسلام (ف) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس مولانا اسعد محمود کی زیرصدارت ہوا۔ جے یو آئی ذرائع  کے مطابق ایوان میں جے یو آئی آرمی ترمیم ایکٹ بل 2020 کی مخالفت کرے گی۔ جے یو آئی کے اراکین آرمی ایکٹ ترمیم بل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اس کے علاوہ اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جے یو آئی ہر فورم پر آرمی ایکٹ ترمیم بل کی مخالفت کرے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان آرمی ترمیمی ایکٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ (ن) لیگ کا فرض تھا کہ وہ تمام جماعتوں کو اکٹھا کرتی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں کیا جا سکا۔ جے یو آئی(ف) اس قانون سازی سے لاتعلق رہے گی۔  ان کا کہنا تھا کہ ووٹنگ میں حصہ لینا جعلی اسمبلی کی کارروائی کا حصہ بننا ہو گا۔ فوج کا ادارہ اور اس کا سربراہ غیر متنازع ہیں۔

جبکہ دوسری جانب  پیپلز پارٹی نے آرمی ترمیمی ایکٹ بل ہنگامی بنیادوں پر منظور کرانے کی مخالفت کی ہے۔ پیپلزپارٹی اراکین نے پارلیمانی طریقہ کار اختیار کرنے پر زور دیا۔ اپوزیشن نے موقف اختیار کیا کہ عجلت میں بل منظور کرانے سے مزید سبکی ہو گی۔  پیپلزپارٹی نے  تجویز پیش کی ہے کہ بہتر ہو گا کہ بل پہلے دفاع کی قائمہ کمیٹیوں کو بھجوایا جائے۔ پیپلزپارٹی کی تجویز سے حکومت اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں  نے اتفاق کیا۔

 

آئی ڈی: 2020/01/03/2203 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment