وی سی جامعہ سرگودھا کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کی انکوائری میں انکوائری افسر تعینات

لاہور/سرگودھا: وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر وائس چانسلر جامعہ سرگودھا ڈاکٹر اشتیاق کی جانب سے غیر قانونی بھرتیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے معاملے میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے انکوائری افسر کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کی 21 ویں گریڈ کی افسر ارم بخاری کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وی سی سرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق کی جانب سے غیر قانونی تقرریوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے کیس میں گریڈ 21 کی افسر ارم بخاری کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔ ارم بخاری فی الوقت ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب (انرجی) کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس نوٹیفیکیشن کے مطابق چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کی جانب سے مکمل کردہ انکوائری رپورٹ اور سفارشات کو مد نظر رکھتے ہوئے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے وی سی جامعہ سرگودھا کو ذاتی شنوائی کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ انکوائری افسر اس ضمن میں ڈاکٹر اشتیاق کو چارج شیٹ جاری کر کے سات دن کے اندر پیش ہونے اور جواب جمع کرانے کی مہلت مہیا کریں گی۔

اس سے قبل ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے وی سی سرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق کو قانون اور انصاف کے مطابق پیش ہوکر صفائی کا موقع دینے کی سفارش کی تھی، جبکہ سی ایم آئی ٹی نے وی سی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی سفارش کر رکھی ہے۔
مزید بر آں انسپیکشن ٹیم نے غیرقانونی بھرتیوں کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے ساتھ ساتھ معاملہ مزید تحقیقات کیلئے نیب کے سپرد کرنے کی سفارش بھی کی تھی۔اس کے علاوہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے ڈاکٹر اشتیاق کو عہدے سے ہٹانے کی سمری وزیر اعلٰی پنجاب کو بھجوا رکھی ہے۔ مذکورہ سمری میں وزیر اعلٰی سے درخواست کی گئی ہے کہ کسی بھی فیصلہ سے قبل وی سی سرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق احمد کو قانون اور انصاف کے مطابق ذاتی حیثیت میں طلب کر کے صفائی کا موقع دیا جائے۔ گزشتہ ماہ وزیر اعلی پنجاب کی انسپیکشن ٹیم نے اپنی انکوائری رپورٹ وزیر اعلی سیکرٹیریٹ، وزیر برائےایچ ای سی پنجاب اور ایچ ای ڈی آفس میں جمع کرائی تھی جس کے مطابق موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمد کی بطور وائس چانسلر تقرری سمیت ان کو اس عہدے کے لئے نااہل قرار دیا گیا۔ گزشتہ دو سال کے دوران ان کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو بھی مالی و انتظامی کرپشن کی بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کی سفارشات دی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق پر اپنی تقرری سمیت اقربا پروری کی بنیاد پر کی جانے والی بے شمار غیر قانونی تقرریوں کا الزام ثابت ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اشتیاق احمدنے ذاتی دوست جاوید اقبال، ڈاکٹر فضل الرحمان سمیت لیگل ٹیم، ویب اور میڈیا ٹیم کی بغیر اشتہار تقرریوں کے ذریعے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ در ایں اثنا آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کو نظر انداز کر تے ہوئے غیر قانونی بھرتی شدہ افراد کو تحفظ بھی فراہم کیا۔ وی سی سرگودھا نے غیر ضروری تعمیرات کی مد کروڑوں کے گھپلے کیے اوریونیورسٹی کو اربوں روپے کا نقصان بھی پہنچایا ۔ رپورٹ میں وی سی کو عہدے سے ہٹا کر سپیشل آڈٹ کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ وی سی کے پاس انتظامی تجربہ نہ ہونے کے باعث متعدد منافع بخش منصوبہ جات بند کر دئیے گئے جس کے باعث یونیورسٹی کا ہسپتال کھنڈر بن کر رہ گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وائس چانسلر اشتیاق احمد کو واپس قائد اعظم یونیورسٹی بھیجا جائے اور معاملہ مزید تحقیقات کے لئے نیب کے حوالے کیا جائے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام غیر قانونی بھرتیوں کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے ساتھ ساتھ ذمہ داروں کا تعین بھی کیا جائے۔ اس کے علاوہ یی بھی سفارش کی گئی ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے نیب کے ترجمان اعجاز اصغر بھٹی اور محمد انوارکو نیب اور سی ایم آئی ٹی کو غلط اعدادوشمار فراہم کرنے پر ان کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ موجودہ وی سی کوفوری عہدے سے برطرف کرکے کیس کو نیب کے پاس چلنے والی انکوائری سے منسلک کیا جائے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/04/2296

متعلقہ خبریں

Leave a Comment