جے یو آئی کی مجلس عاملہ کا آرمی ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کا فیصلہ

Maualana-Fazlur-ur-Rahman-JUIF

اسلام آباد: جے یو آئی کی مجلس عاملہ نے آرمی ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں جعلی اسمبلی نہیں مانتے تو کیسی قانون سازی؟

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مجلس عاملہ نے آرمی ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب جمعیت علمائے اسلام کی پارلیمانی کمیٹی پہلے ہی اس ایکٹ کی مخالفت کا اعلان کر چکی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے علاوہ جماعت اسلامی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور بلوچستان کی نیشنل پارٹی بھی ان بلز کی ہر فورم پر مخالفت کا فیصلہ کر چکی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب یہ اسمبلی جعلی ہے تو وہاں قانون سازی کیسی؟ ن لیگ نے یکطرفہ فیصلہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کا موقف ہی غلط ہے۔ حکومت میں اتنی جرأت ہی نہیں ہے کہ مذاکرات کرے۔ مولانا فضل الرحمان نے ایک سوال پر کہا کہ ایرانی جنرل پر حملہ دراصل امریکہ کی خلیج اور اسلامی دنیا میں نئی جنگ چھیڑنے کی کوشش ہے۔ ٹرمپ کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن وہ آئندہ الیکشن کے لیے جواز گھڑ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: آرمی ایکٹ: جے یو آئی کے بعد تین اور پارٹیز نے مخالفت کا فیصلہ کر لیا

مولانا فضل الرحمان نے حکومتی مدارس کی پالیسی مسترد کرتے ہوئے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ملک گیر کنونشنز کرے گی۔ ان کے مطابق مدارس کے لیے اصلاح کا لفظ استعمال کرنا توہین آمیز ہے۔  مدارس کا نصاب درست ہے جبکہ انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی بنیاد امریکی پالیسیوں نے ڈالی ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے ایک مرتبہ پھر اسٹیبلشمنٹ کو پی ٹی آئی حکومت کی پشت پناہی چھوڑنے کا مطالبہ بھی کردیا۔ ایک سوال پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کی وجہ سے پوری قوم میں حکومت کے خلاف نفرت اور بیزاری پیدا ہوئی۔ یہ اس مارچ کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/04/2316 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment