عراق: بغداد میں امریکی فوجی بیس کے قریب راکٹ حملہ

بغداد: عراق کے دارالحکومت بغداد کے انتہائی سیکیورٹی والے علاقے گرین زون میں امریکی فوجی بیس کے قریب راکٹ حملہ ہوا ہے تاہم اس حملے میں تاحال کسی قسم کے نقصان کی رپورٹ نہیں ملی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوجی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ راکٹ گرین زون کے ہائی سیکیورٹی علاقے میں آگرے جہاں امریکی سفارت خانہ بھی واقع ہے۔ عراقی فوج کے مطابق ایک راکٹ زون کے اندر گرا جبکہ دوسرا اس کے قریب گرا۔ راکٹ کے گرتے ہی امریکی سفارت خانے کے الازم اور سائرن بجنے لگے۔

عراقی فوج اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی بغداد میں بلاد ایئر بیس پر کل دو راکٹوں سے ایک ایسی جگہ حملہ کیا گیا ہے جہاں امریکی فوجی تعینات تھے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران کے طاقتور ترین جنرل قاسم سلیمانی کو ایک میزائل حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس حملے سے قبل بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کے بعد ایران کو دھمکی دی تھی کہ ایران رد بھگتنے کے لیے تیار رہے۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کے حکم پر بغداد میں امریکی حملہ؛ ایرانی افواج کے سینئر کمانڈر جاں بحق

امریکہ کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے میں میجر جنرل قاسم سلیمانی، جو ایران کی پاسدران انقلاب کی قدس فورس کے سب سے اہم اور اعلی ترین عہدے دار تھے، کے ساتھ 7 اور فوجی اہل کار بھی جاں بحق ہوئے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر کہا تھا کہ امریکا کو اس حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا جبکہ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے امریکی اقدام کو جنگ قرار دیا تھا۔

جنرل قاسم سلیمانی اور دیگر ساتھیوں کی نماز جنازہ بغداد میں ہزاروں افراد کی موجودگی میں ادا کی گئی۔ جنازے کے موقع پر شدید ردِ عمل دیکھنے میں آیا اور مظاہرین کی جانب سے امریکہ مخالف نعرے بھی بلند کیے گئے۔

آئی ڈی: 2020/01/04/2324 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment