چودھری برادران کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات بے نتیجہ ختم

اسلام آباد:   مولانا فضل الرحمٰن کی جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے آرمی ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کے اعلان کے بعد چودھری برادران کی  مولانا فضل الرحمٰن  سےاہم  ملاقات ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں چودھری برادران نے مولانا فضل الرحمٰن کو آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر حکومت کا ساتھ دینے پر قائل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ملاقات میں کہا کہ ہمارا موقف وضاحت کے ساتھ سامنے آچکا ہے کہ آرمی ایکٹ بل کی حمایت نہیں کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الہی اور صوبائی وزیر عمار یاسر ملاقات کیلئے مولانا فضل الرحمٰن کے گھر تشریف لائے۔ یہ ملاقات ایوان میں آرمی ترمیمی ایکٹ پیش ہونے کے حوالے سے  مشاورت کیلئے طے پائی ہے۔ ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کو آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر حکومت کا ساتھ دینے پر قائل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ یہ ملاقات آدھا گھنٹہ تک جاری رہی۔

مزید پڑھیں: آرمی ترمیمی ایکٹ؛ جمعیت علمائے اسلام نے مخالفت کا فیصلہ کر لیا

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا  کہ ہماری جماعت کا موقف وضاحت کے ساتھ سامنے آچکا ہے کہ ہم آرمی ایکٹ بل کی حمایت نہیں کریں گے۔ یہ فیصلہ پارلیمانی پارٹی اور مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد  کیا گیا۔  انہوں نے کہا  کہ فوج کو سیاست میں ملوث نہیں کرنا چاہتے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے فوج اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو متنازعہ بنانے اور عدالت میں گھسیٹنے سے صورتحال متنازعہ بنی ہے۔عدالت میں معاملہ جانے سے معلوم ہوا کہ قانون میں سقم تھا، جبکہ قانونی سقم کو دور کرنے کے لئے حکومت نے نااہلی کا ثبوت دیا ۔انہوں نے کہا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ اسمبلی میں آرہا ہے، جس اسمبلی کو تمام حزب اختلاف کی جماعتیں جعلی مانتی ہیں ۔ جے یو آئی ف اس اسمبلی کے قانون سازی کے حق کو تسلیم نہیں کرتی۔ اس حوالے سے عملی قدم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عملی قدم کے حوالے سے  ہماری پارلیمانی پارٹی حکمت عملی طے کررہی ہے ،مولانا نے کہا حکومت نے مسودہ قانون کے متن پر حزب اختلاف سے بات نہیں کی،مسودہ قانون پر بھی کچھ ابہام موجود ہیں۔

 

آئی ڈی: 2020/01/05/2371 

متعلقہ خبریں