صومالیہ میں امریکی فوجی اڈے پر دہشت گرد تنظیم الشباب کا حملہ

کینیا: صومالیہ کی دہشت گرد تنظیم الشباب نے اتوار کو علی الصبح ساحلی کینیا میں امریکی اور کینین فوجیوں کے زیر استعمال بیس پر حملہ کرکے متعدد امریکی طیاروں اور گاڑیوں کو تباہ کردیا۔ کینیا کی فوج کے ذرائع کے مطابق کینین فوج نے کم از کم چار حملہ آوروں کو ہلاک کرتے ہوئے دہشت گردوں کو مزید تباہی پھیلانے سے روک دیا۔ تاہم امریکی اور کینیا کی فوج کے جانی نقصان کی رپورٹ تاحال نہیں ملی۔ عینی شاہدین اور فوجی ذرائع کے مطابق فوجی بیس پر یہ حملہ علی الصبح ہوا اور تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہا۔

غیر ملکی میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق امریکا کی افریقن کمانڈ نے صومالیہ کی سرحد کے قریب لامو کاؤنٹی کے کیمپ سمبا پرحملے کی تصدیق کردی ہے۔ دوسری جانب الشباب نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ‘حملے میں 7 طیارے اور 3 فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا گیا’۔

پینٹآگان کے مطابق اس بیس پر قریباً ایک سو سے کچھ کم امریکن فوجی تعینات ہیں۔ امریکی کمانڈ کے ذرائع کے مطابق یہ امریکی فوجی مشرقی افریقی اتحادیوں کو انسداد دہشت گردی کی تربیت دے رہے تھے۔

کینیا کی پولیس کی جانب سے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دئیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مونڈا بے ائیر سٹرپ کے قریب ہونے والے اس حملے میں ایک امریکی اور ایک کینین طیارہ اور دو امریکی ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے ہیں، جب کہ کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ دہشت گرد تنظیم الشباب نے گزشتہ ماہ 7 دسمبر کو صومالیہ کی سرحد کے قریبی علاقے میں مسافر بس پر بھی حملہ کیا تھا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ الشباب نے نیروبی میں جنوری 2019 میں ایک پرتعیش ہوٹل اور آفس کمپلیکس پر بھی حملہ کیا تھا جس میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

الشباب اس سے قبل بھی کینیا میں بڑے حملے کر چکی ہے اور 2013 میں شاپنگ مال پر کیے گئے حملے میں کم ازکم 67افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اپریل 2015 میں الشباب نے مشرقی کینیا کے شہر گریسا میں یونیورسٹی پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 148 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/05/2394 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment