سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا انسداد منی لانڈرنگ بل پر تحفظات کا اظہار

FATF

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے انسداد منی لانڈرنگ ترمیمی بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے  ایف اے ٹی ایف (فیٹف) کے مطالبات طلب کر لیے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی فاروق نائیک کا کہنا ہے کہ کیا منی لانڈرنگ کی سزائیں بڑھانے سے ایف اے ٹی ایف خوش ہو جائے گی؟  حکومت جلد بازی میں قانون پاس کرانے کی کوشش نہ کرے۔

تفصیلات کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ کمیٹی اراکین نے اجلاس میں مشیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ کی عدم شرکت پر اظہار برہمی  کیا۔ چئیرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے عدم حاضری پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی غیر سنجیدہ رویہ ہے کہ مشیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ موجود نہیں۔ اینٹی منی لانڈرنگ کا بل حکام کی عدم موجودگی میں کیسے پاس کیا جا سکتا ہے؟ وزارت خزانہ کے حکام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات کے تحت منی لانڈرنگ بل لائے ہیں، لیکن پلان پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جس پلان پر عملدرآمد کیا جانا ہے وہ پلان پارلیمنٹ اراکین کے پاس موجود نہیں۔ اس عمل کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شفافیت کی بات کی جاتی ہے لیکن ہمیں پلان ہی نہیں دیا گیا، یہ کیسی شفافیت ہے؟ بریفنگ وزارت خزانہ نے بنائی ہے، ایکشن پلان وزارت خزانہ نے نہیں بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ حکام اچھی طرح جانتے ہیں کہ فیٹف سفارشات کا ایکشن پلان کہاں سے بن کر آیا۔ وزارت خزانہ کے جو لوگ یہاں بریفنگ کیلئے آئے ان کے پاس پلان ہی موجود نہیں۔

ڈائریکٹر جنرل فنانشل منیجمنٹ یونٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ فیٹف سفارشات کےمطابق پاکستان کو ستائیس نکات پر عملدرآمد کرنا تھا۔ سفارشات کیمطابق کیش کورئیر، حوالہ ہنڈی اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات کیے جانے ہیں۔ فروری میں فیٹف میٹنگ تک سفارشات پر عملدرآمد ہو گا۔ فیٹف سفارشات کے مطابق فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترمیم کی جا رہی ہے۔ مشکوک رپورٹس کو فوری طور ہر رپورٹ کیا جائے گا۔ کمیتی کو مزید بتایا گیا کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ایڈمان گروپ کی رکنیت حاصل کی جائے گی اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ فنانشل انٹیلی جینس معلومات کو شیئر کیا جا سکے گا۔ کمیٹی اراکین نے اینٹی منی لانڈرنگ بل میں ترامیم پر اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ فیٹف نے کہاں کہا کہ دس ہزار ڈالر اور پندرہ تولہ سولہ بیرون ملک نہیں لے جا سکتے؟ چئیرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ فیٹف سفارشات میں کس دستاویز میں یہ لکھا گیا؟ یہ اپنی دکان چمکائے ہوئے ہیں۔  قانون میں اپنی خواہش کے مطابق ترمیم کی جا رہی ہے۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کے ساتھ ساتھ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔

 

آئی ڈی: 2020/01/06/2431 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment