80 لاکھ کا فراڈ؛ سی ڈی اے افسر پر تاحال ہاتھ نہ ڈالا جا سکا

اسلام آباد: وفاقی پولیس قریباً تین سال گزرنے کے باوجود سی ڈی اے کے جعل ساز افسر کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے شہری ظفر اقبال نے 2017 میں تھانہ شالیمار میں سی ڈی اے افسر سید ہارون پاشا کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کروائی، جس کے مطابق ظفر اقبال نے موضع ڈیرہ موہری سہالہ، گولڑہ ،ضلع اسلام آباد میں واقع 135کنال رقبہ کی خریداری کے لئے سید ہارون پاشا کے ساتھ 80 لاکھ روپے میں سودا طے کیا۔ رقم ملنے کے بعد سی ڈی اے افسر نے ظفر اقبال کو زمین کے جعلی کاغذات دے دئیے۔ بعد ازاں درخواست گزار نے ملزم کو کاغذات کے جعلی ہونے کا بتایا، جس پر ملزم نے درخواست گزار کو 80 لاکھ روپے کا چیک دیا جو بینک سے ڈس آنر ہو گیا۔

اس پر ظفر اقبال نے 12 مارچ 2017 کو تھانہ شالیمار میں سی ڈی اے افسر کے خلاف مبینہ فراڈ کی ایف آئی آر درج کروائی۔ تاہم قریباً تین سال گزرنے کے باوجود پولیس ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ملزم کو گرفتارکرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

دوسری جانب سید ہارون پاشا تاحال سی ڈی اے میں ملازمت کر رہا ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/07/2542

متعلقہ خبریں

Leave a Comment