مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ میں کیا ہوا؟

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی کہانی باہر آ گئی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کا فیصلہ کیا، تاہم اراکین کی اکثریت نے آرمی ایکٹ کی مخالفت کی۔ اس پر سینئیر رہنماؤں نے کہا کہ ہم پارٹی قیادت کی ہدایت پر عملدرآمد کرنے کے پابند ہیں۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس راجہ ظفر الحق اور خواجہ آصف کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور سعد رفیق نے شرکت نہیں کی، تاہم دونوں ایوانوں کے دیگر اراکین اجلاس کا حصہ تھے۔ ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی میں میاں جاوید لطیف اور ڈاکٹرعباد الرحمان سمیت متعدد اراکین کا پارٹی موقف سے اختلاف سامنے آیا۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے اراکین کے درمیان گرما گرم بحث مباحثہ بھی ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ساری صورتحال پر خواجہ آصف نے کہا کہ پارٹی اراکین قیادت کے فیصلے کے پابند ہیں۔ اس پر اراکین نے استفسار کیا کہ "ووٹ کو عزت دو” کے نعرے کا کیا ہوا؟ اس کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ شہباز شریف آپ کے سوالوں کا جواب خود آ کر دیں گے۔  پارٹی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا مجوزہ ترامیم پر بھی فیصلہ نہ ہو سکا۔ اس سے قبل مسلم لیگ ن کی جانب سے ترمیمی مسودہ تیار کرکے قیادت کو لندن بھجوا دیا گیا تھا تاہم لندن سے پارٹی قیادت کی جانب سے ترمیمی مسودے پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ پارٹی ترامیم پر پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے ترامیم پر تاحال کوئی ردعمل موصول نہیں ہوا۔

 

آئی ڈی: 2020/01/07/2576 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment