ایران کے حملے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا: ٹرمپ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے علی الصبح عراقی تنصیبات پر حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ایران نے گذشتہ ہفتے ڈرون حملے میں اعلی ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردعمل میں بدھ کے روز عراق میں موجود امریکی ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔

صدر ٹرمپ کے خطاب کے دوران امریکی مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت ان کے پیچھے کھڑی رہی جو ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خطاب میں، جس کا شدت سے انتظام کیا جا رہا تھا، اور جو اپنے مقررہ وقت سے آدھے گھنٹے کے بعد شروع ہوا، ٹرمپ نے کہا کہ جب تک میں صدر ہوں، ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ قاسم سلیمانی ہزاروں افراد کا قاتل تھا، جسے امریکی کارروائی میں ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر ایرانی حملوں میں کسی امریکی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ ہماری عظیم امریکی افواج ہر طرح کے حالات کے لئے تیار ہیں اور ایران نیچے کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

عراقی فوج نے بتایا کہ مغربی صوبہ انبار میں عین الاسد ہوائی اڈے اور عراقی کرد دارالحکومت اربیل میں ایک اڈے پر 22 میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں کسی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس اقدام کے بعد، عالمی برادری کی طرف سے جنگ کے خطرے کی گھنٹی اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ٹرمپ نے ٹویٹر پوسٹ میں کہا اب تک سب اچھا ہے۔ ہمارے پاس دنیا کی سب سے طاقتور اور بہترین فوجی ساز وسامان سے لیس فوج موجود ہے۔

امریکہ نے تین جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے میں ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور ایرانی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے لیڈر مہدی المھندس کو نشانہ بنایا تھا۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ یاد رہے بدھ کے روز ایران نے عراق میں موجود فوجی اڈوں پر درجن سے زائد میزائل داغے تھے۔ ایرانی دعوے کے مطابق اس حملے میں اسی لوگ مارے گئے ہیں۔

 

آئی ڈی: 2020/01/08/2745 

Leave A Reply

Your email address will not be published.