نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے بعد ایرانی پٹرول کی سمگلنگ پر بھی وفاقی ٹیکس محتسب کا فیصلہ آ گیا

اسلام آباد: وفاقی ٹیکس محتسب  نے ایرانی  پیٹرولیم مصنوعات کی  کھلے عام سمگلنگ اور فروخت کے خلاف ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسٹم  حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی  اس حوالے سےناکامی، ان اداروں کی نااہلی اور اپنی ذمہ داریوں سے غفلت کی عکاس ہے۔ 

وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے ایف بی آر کو ہدایات دی ہیں کہ ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ، ترسیل، کاروبار  اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان  کو روکنے  کیلئے  کسٹم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ ٹاسک فورس  تشکیل دی جائے ۔

وفاقی ٹیکس محتسب کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ کسٹم حکام سمگلروں کے خلاف کیس درج نہیں کرتے اور پکڑے جانے والی اشیا اور گاڑیوں کی قیمت بہت ہی کم متعین  کر کے  برائے نام جرمانہ لگا کر چھوڑ دی جاتی ہیں۔

ایف ٹی او رپورٹ کے مطابق دوران تفتیش کلیکٹوریٹ ایم سی سی کوئٹہ، گوادر اور ڈائریکٹوریٹ  آئی اینڈ آئی نے اپنی افرادی قوت اور لاجسٹکس کی کمی کا بہانہ بنا کر اس مسئلے سے نبٹنے میں اپنی کمزوری کا اظہار کیا اور اپنی ذمہ داری دیگر قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے سر تھوپنے کی کوشش کی۔

ایف ٹی او رپورٹ کے مطابق غیر قانونی پیٹرول پمپ سڑکوں پر سب کو دکھائی دیتے ہیں لیکن کسٹم حکام اور قانون کا نفاذ کرنے والے اداروں کو نظر نہیں آتے۔ حب حادثہ جس میں 26قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا اور 17 افراد بری طرح جھلس گئے، کسٹم حکام اور قانون کا نفاذ کرنے والے اداروں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہونا چاہئے، کیونکہ یہ حادثہ ان کی غفلت کا نتیجہ تھا۔ پولیس حکام کا یہ موقف کہ وہ اس معاملے میں خود کوئی کاروائی نہیں کر سکتے، بہت کمزور ہے، کیونکہ پولیس کسی بھی غیر قانونی عمل اور بزنس کے خلاف کاروائی کر سکتی ہے۔

وفاقی ٹیکس محتسب نے دوران تفتیش چیف سیکریٹری حکومت بلوچستان، سیکریٹری ہوم اینڈ ٹرائیبل افیئرز، حکومت بلوچستان اور ایف سی حکام کے روئیے کو افسوس ناک قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق سماعت کے نوٹس موصول ہونے کے باوجود مندرجہ بالا حکام  کی طرف سے کوئی جواب موصول نہ ہونا  اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اتنا اہم مسئلہ، جو کہ نہ صرف قومی خزانے بلکہ انسانی زندگی کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے، ان کیلئے اہمیت کا حامل نہیں۔ اوگرا آرڈنینس کے مطابق، غیر قانونی پیٹرول پمپس کے خلاف، جن کے ذریعے ایرانی پیٹرولیم مصنوعات  کی فروخت کی جاتی ہے، کارروائی میں ناکامی کا ذمہ داراوگرا بھی ہے۔

وفاقی ٹیکس محتسب نے ایف بی آر کو سفارش کی ہے کہ چیف کلیکٹر (انفورسمنٹ) کوئٹہ کو ہدایات دی جائیں کہ کسٹم  اور قانون نافذ کرنے والے حکام پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے، جس کو اینٹی سمگلنگ اختیارات حاصل ہوں۔ یہ ٹاسک فورس ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ روکنے کی  حکمت عملی تشکیل دے  اور ایف بی آر اس دھندے میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کو یقینی بنائے۔

پاکستان ایران بارڈر پر واقع ان علاقوں اور ہائی ویز کے لیے، جہاں سے  ممکنہ طور پر یہ سمگلنگ کی جاتی ہے، ایف سی، کوسٹل گارڈز ، پولیس اور کسٹم حکام پر مشتمل  مشترکہ پیٹرولنگ فورس کی تشکیل  کیلئے ایف بی آر وزارت داخلہ کو درخواست کرے۔ ایف بی آر چیف سیکریٹری بلوچستان کو درخواست کرے کہ بلوچستان میں متعلقہ ڈی سی اوز اور پولیس کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں کہ ان افراد کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں جو ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی سٹوریج اور کاروبار میں ملوث ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ روڈ ٹرانسپورٹ حکام کو ہدایات دی جائیں کہ تمام بسوں کی فٹنس سرٹیفکیٹس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور فوری طور پر ایسی بسوں کی مومنٹ کو روکا جائے جن کے نیچے  پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ کیلئے خاص ڈیزائن کے ٹینک نصب ہیں، جو کہ انسانی جانوں کیلئے خطرہ بنتے ہیں۔

 

آئی ڈی: 2020/08/01/2703 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment