ایران نے عراق میں امریکی اڈے پر میزائلوں سے حملہ کر دیا


ایران : ایران نے بدھ کے روز علی الصبح ایک اہم ایرانی جنرل کی ہلاکت کے بعد امریکہ پر حملہ کر دیا, جس میں دو عراقی ٹھکانوں پر ایک بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کے رہائش والے کئی بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے کہا کہ یہ امریکی انقلابی گارڈ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ تھا، جس کی گذشتہ ہفتے بغداد کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت ہوئی تھی۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں عین الاسد ہوائی اڈے پر میزائل حملے کی جوابی کارروائی کے خلاف خبردار کیا تھا۔ گارڈ نے یہ انتباہ ایران کی سرکاری آئی آر این اے نیوز ایجنسی کے ذریعہ کے بیان کے ذریعے جاری کیا تھا۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا کہ ہم تمام امریکی حلیفوں کو انتباہ کر رہے ہیں، جنھوں نے بھی امریکی دہشت گرد فوج کو اپنے اڈے دیئے ہیں، ایران ان اڈوں کو نشانہ بنانے گا۔

عراقی سیکیورٹی کے دو عہدیداروں نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ کم سے کم ایک میزائل بیس میں موجود جنگی جہاز پر گرا تھا جس سے آگ بھڑک اٹھی تھی۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ جیٹ عراقی تھا یا امریکی۔ ان حملوں سے ہلاکتوں کی فوری طور پر کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ ایران کی نیوز ایجنسی سے آنے والی رپورٹس کے مطابق تقریباً 80 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے تاہم آزاد ذرائع سے ان رپورٹس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ناروے کی مسلح افواج کے ترجمان برنجر اسٹورڈل نے ایک نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ایرانی حملے کےوقت تقریبا 70 نارویجن فوجی بھی ہوائی اڈے پر موجود تھے لیکن کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے کہا کہ گارڈز کے ایر اسپیس ڈویژن نے حملہ کیا جو ایران کے میزائل پروگرام کو کنٹرول کرتی ہے۔ ایران نے کہا کہ وہ مزید معلومات بعد میں جاری کرے گا۔امریکی اڈے پر ایرانی حملہ ایران میں جنرل سلییمانی کے آخری رسومات کے محض چند گھنٹوں کے بعد کیا گیا۔

یاد رہے کچھ روز پہلے امریکہ نے عراق میں ایران کے ایک اہم جنرل کو ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔ ایران نے اپنے جنرل کی ہلاکت کے بعد امریکہ کو متنبہ کیا تھا کہ ایران اپنے جنرل کی ہلاکت کا بدلہ ضرور لے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس حملے کے بعد اپنی جوابی کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں جواد ظریف نے کہا کہ ایران نےمناسب جواب دے دیا ہے اور ایران کی جانب سے مناسب جواب مکمل ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اقوام متحدہ کےچارٹر کے تحت اپنے دفاع میں کارروائی کی اور اُسی فوجی اڈےکو نشانہ بنایا جہاں سے ایرانی جنرل کو ہدف بنایا گیا۔

آئی ڈی: 2020/01/08/2608

اپنا تبصرہ بھیجیں