اپوزیشن سے مفاہمت؟ حکومت نے اہم آرڈیننس واپس لے لیے۔


اسلام آباد: حکومت نے اپوزیشن کی مخالفت پر قومی احتساب بیورو (نیب) اور بے نامی ترسیلاتِ زر (ٹرانزیکشنز) سمیت 6 آرڈیننس واپس لے لیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں وزیر مملکت علی محمد خان نے آرڈیننس واپس لینے کی تحریک پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد آرڈیننس واپس لیے ہیں۔ ایم ایم اے اور ایم کیو ایم کو چھ آرزڈیننسز کی واپسی اور بلز کی شکل میں منظوری پر اعتراض تھا۔

جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے اعتراض اٹھایا کہ مذاکراتی عمل میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ قومی اسمبلی نے آرڈیننس واپس لینے کی تحریک منظور کی۔

واضح رہے کہ واپس لیے گئے آرڈیننسز میں پروانہ انصرام تولیت و وراثت بل 2019 آرڈیننس، قانونی معاونت و انصاف اتھارٹی آرڈیننس، نفاذ حقوق جائیداد برائے خواتین آرڈیننس، اعلیٰ عدلیہ عدالتی لباس  اور انداز مخاطب کا آرڈیننس، بے نامی کاروباری معاملات امتناع کا آرڈیننس اور قومی احتساب ترمیمی آرڈیننس 2019 شامل ہیں۔

 

آئی ڈی: 2020/01/10/2930 

Leave A Reply

Your email address will not be published.