ایک خواب نئے پاکستان کا!

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جس میں ایک سیاسی شخص کو بڑا معتبر مانا جاتا ہے ۔ میرے کہنے کا مطلب کہ ہر کوئی اپنی پارٹی کو سپورٹ کرتا ہے اور ایسی حد تک کہ اس سیاسی شخصیت کے ماضی اور حال کو دیکھتے ہی نہیں، بس اندھی تقلید میں بندھے کہ شاید مستقبل میں اچھا کر لے گا، شاید اگلی واری ’چنگی‘ ہو جائے۔ لیکن حالات جوں کہ توں ہیں۔

آج کل ایک اسسٹنٹ کمشنر تک کی پوسٹ کیلئے سی ایس ایس جیسے امتحانات ضروی ہیں، کیوں کہ جس نے سی ایس ایس جیسا کٹھن اور دماغ تھکا دینے والا امتحان نہ دیا ہو وہ اس سیٹ کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہاں تک کہ پچھلے دنوں  ایٹا کے زیر اہتمام آفس اٹینڈنٹ کیلئے پوسٹس آئی تھیں، اس کیلئے بھی ٹیسٹ منعقد کیا گیا، اور نتیجہ کیا بنا؟ ایسی لاکھوں کروڑوں نوکریاں آتی ہیں، جن کا کبھی ایک ٹیسٹ ہوتا ہے کبھی دوسرا۔ میرے لکھنے یا کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ یہ چیزیں اچھی نہیں ہیں یا یہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک اچھے ملک کے کیلئے یہ سب ضروی ہے، تاکہ قابل لوگ ہی اہم عہدوں پر فائز ہوں اور اس ملک کی بہتری اور اچھائی کیلئے کام کریں اور اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

میں یہاں ہمارے الیکشن کمیشن نظام کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ الیکشن کے نظام کو زیر بحث لانا اسی لیے ناگزیر ہے کہ الیکشن کے عمل سے گزر کر ہی وہی لوگ آگے آتے ہیں جو  ہمارا لیے اسی میرٹ اور عہدوں کا تعین کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک خبر آنکھوں سے گزری کہ خیبر پختونخوا کا نیا ویزر تعلیم میٹرک پاس ہے۔ خدارا  آپ خود سوچیں کہ کیا ایک میٹرک پاس،  ایف ایس سی ، بی ایس سی، بی ایس، ایم اے ، ایم فل یہاں تک کہ پی ایچ ڈی کے معیار تعلیم کا تعین کر سکے گا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں اس ملک میں کیا کیا اصلاحات ہونی چاہیئں۔ اس ملک کا ایک ذی شعور شہری ہونے کے ناطے میرا بھی حق بنتا ہے کہ میں اس حوالے سے اپنی رائے کا آزادی سے اظہار کروں۔

باقی وزراء کی تو خیر بات ہی نہیں، اور اگر بات ہو وفاقی زراء کی اللہ کی پناہ۔ میں صرف موجود حکومت کی بات  نہیں کر رہا باقی  ادوار بھی ہم نے دیکھے ہیں، جو کچھ ہوا اور ہوتا رہا  وہ کسی سے چوری چھپا نہیں لیکن اس وقت  اس پہ بات کرنا بے سود ہے کیونکہ جو گزر گیا سو گزر گیا ، دم کھینچنے سے اونٹ کنویں میں گرائے گا ہی ساتھ  ہمیں بھی لے ڈوبے گا۔

جی تو ہمیں سب سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟ سوال تو یہ بنتا تھا کہ ہمیں ایسا کیوں کرنا چاہیے، لیکن میں سوال یہی کرونگا کہ ہمیں ایسا کیوں نہیں کرنا چاہیے؟

سب سے پہلے اداروں کو ملکر ایک خود مختار الیکشن کمیشن کا وجود رکھنا چاہیے۔ یہ جو برائے نام الیکشن کمیشن ہے اس  کو سائیڈ پر کردیں، کیوں کہ زنگ زدہ یا گھی کے خالی ڈبے کباڑئیے ہیں خریدتے ہیں، اس سے گھر کے دروازے  نہیں بنائے جاتے، اور اگر اس کو بروئے لایا بھی جائے تو بھی بہت بد مزہ  اور بدصورت لگتے ہیں۔

اس کے بعد الیکشن کمیشن میں ظاہری بات ہے پڑھے لکھے بندے ہونے چاہیے۔ یہاں تک کہ ایک چپڑاسی کی بھی کم سے کم تعلیم ایف اے لازمی نہیں تو کوئی میٹرک لازمی ہونی چاہیے تاکہ اس کو دستاویزی معاملات کی سمجھ بوجھ ہو۔

الیکشن کمیشن میں وہی افراد بھرتی کیے جائیں جن پر غلطی سے بھی کبھی کوئی فوجداری یا دوسرے کیسز نہ ہوں یعنی کہ ان کا ٹریک ریکارڈ بالکل صاف ہو۔

الیکشن کمیشن کو ایک نہیں بلکہ دو نظام رائج کرنا چاہیے۔ ایک کو میں بعد میں ڈسکس کرنا پسند کرونگا۔ پہلا یہ کہ ہر سیاست دان کیلیے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ کم سے کم بی ایس سی یا بی ایس کرچکا ہو یا ایم اے پاس ہو وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے۔

اگر کوئی اقلیتی سیٹ سے لڑ رہا ہو، اور اس کے مقابلے میں کوئی نہ ہو تو بی اے لازمی ہونا چاہیے، اس سے کم نہیں۔

کاغذات نامزدگی کے بعد تمام سیاست دانوں کی ڈگریوں کی پڑتال، جسے زبان عام میں ویریفیکیشن کہا جاتا ہے، کی جائے۔ جس جس سیاستدان کی ڈگری اصل ہو اس کو اگلے مرحلے کیلئے تیار کیا جائے اور  جس کے کاغذات نامزدگی میں کوئی بھی جھوٹ یا کوئی بھی مسئلہ ہو اس کو آئندہ دس سال کیلئے نا اہل قرار دیا جائے، تاکہ وہ اپنی مدت تعلیم پوری کرسکے۔

پھر  اس مرحلے کے بعد الیکشن  کمپین شروع ہونے سے قبل  سب کا ایک انٹری ٹیسٹ لیاجائے۔ جو جو  ٹیسٹ کلیئر کرتا جاتا ہے انہیں انتخابی نشان الاٹ کیا جائے اور اس کو کمپین چلانے کی اجازت دے دی جائے، کیونکہ وہ اس قابل ہوچکا ہے کہ عوام کی نمائندگی کرسکے۔

ہر سیاست دان کی مدت دس سال ہو، مطلب وہ اپنی زندگی میں صرف دو بار انتخابات میں حصہ لے سکتا ہو۔ دو بار مکمل ہونے کے بعد ہر سیاستدان کو ریٹائرڈ ہونا چاہیئے۔ اس کے بعد اسکا اور اسکے خاندان کا سیاست سے دور دور تک کوئی تعلق نہ ہو تاکہ اور بھی لوگوں کو آگے آنے میں مدد مل سکے۔

جب انتخابات ہوجائیں تو پارٹی کے صدر، چیئرمین کو نہیں بلکہ پھر سے الیکشن کمیشن جیتی ہوئی پارٹی کے امیدواران سے ایک ٹیسٹ منعقد کرے اور  اسی ٹیسٹ کے بل بوتے پر ہی وزیر اعظم کا انتخاب ہوسکے، تاکہ پتہ چلے کہ واقعی ایک اہل امیدوار کو وزیر اعظم بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم کو بھی اپنے من پسند نہیں افراد کو وزارتوں پر فائز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کا بھی ایک طریقہ کار اخذ کرنا چاہیے۔ فرض کریں وزیر قانون ہو تو اس کیلئے ایک قابل قانون دان لازمی ہو، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے کوئی راہ چلتا انسان نہیں بلکہ ایک سائنسدان نہ ہو تو کم سے کم اس کو سائنس کے بارے میں علم ہو یا وہ آئی ٹی ہی جانتا ہو۔ ایسے ہی وزیر مذہبی امور کوئی عالم ہو اور اس کے سیکرٹریز میں اقلیتوں کے نمائندے بھی لازمی ہوں تاکہ وہ اقلیتوں کے معاملے میں بھی با آسانی فیصلے کر سکے۔ اطلاعات و نشریات کے وزیر کو کم سے کم کمیونیکیشن کا علم ہو یا وہ ایک اچھی صحافت جانتا ہو۔

ایسے ہی ہر وزیر کیلئے اپنا اپنا معیار لازمی ہونا چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر کو بھی میرٹ پر لانا چاہیئے تاکہ وہ بھی تمام معاملات کو بخوبی انجام دے سکے۔

سینیٹ کا بڑا مسئلہ ہے! ہر بار ہارس ٹریڈنگ کی رٹ لگائی جاتی ہے۔ اس کا بھی الیکشن کمیشن ایسا ہی ایک عمل نکال لے اور کسی بھی سینیٹ کا امیدوار ہو،  وہ اس قابل ہو کہ وہ سینٹ کے معاملات کو بخوبی انجام دے سکتا ہو۔ سینیٹر کی مدت تین سال ہی ہونی چاہیے۔  

کسی بھی پارٹی عہدے دار کا بھی امتحان  ہونا لازمی ہے، کیونکہ اگر کوئی بندہ کسی پارٹی کو بخوبی چلا کرسکتا ہے، تو اسی کو ہی آگے بڑھنا چاہیے، یا یہ کہ سب پارٹیوں کو ختم کیا جائے، اور الیکشن کمیشن کی جانب سے دو آپشن دئیے جائیں کہ یہ یا یہ۔

میں نے پہلے بتایا کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کو دو کام کرنے چاہیئں۔  اس میں ایک یہ بھی ہے کہ الیکشن کمیشن کو چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر سرپرستی ایک کمیٹی قائم کرنی چاہیے، جس کے تمام خدوحال چیف جسٹس کے ہاتھ میں ہوں۔ اس میں نیب، ایف بی آر، آرمی اور آئی ایس آئی کے بندے شامل ہوں اور وہ کمیٹی تمام سیاسی عہدے داران کی  کارکردگی کو مانیٹر کرے اور ایک سال بعد اس کی کارکردگی رپورٹ چیف جسٹس آف پاکستان  کو جمع کرانی چاہیے۔ جس پر کوئی الزام ہو، اس کے خلاف ریفرنسز جمع کرائے جائیں اور  اس کو معطل کردیا جائے، تب تک جب وہ تمام اعتراضات سے بری نہیں ہو جاتا۔

باقی بھی معاملات ہیں لیکن اگر ہم اپنے سیاسی معاملات کو ٹھیک  کریں تو وہ دن دور نہیں کہ یہ ملک جنت کا گہوارا بن جائے گا۔ کیونکہ نہ اگلی باری کی لالچ ہوگی اور نہ ہی  ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچیں گے۔

ڈسکلیمر: خبرنامے اور اس کی ٹیم کا بلاگر کی آرا، تجزیات، خیالات اور نقطہ نظر  سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

آئی ڈی: 2020/01/10/2932

متعلقہ خبریں

Leave a Comment