طیبہ تشدد کیس؛ ملزمان کی ایک ایک سال کی سزا بحال


اسلام آباد: سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا۔ سپریم کورٹ نے سابق جج راجہ خرم اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کی سزاوں میں اضافے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی دی گئی ایک ایک سال کی سزائیں بحال کر دی گئی ہے۔ مئی 2019 میں محفوظ شدہ فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے پڑھ کر سنایا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں آج طیبہ تشدد کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر عدالت نے ملزمان کی اپیلوں پر 9 ماہ قبل مئی 2019 میں محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے سابق جج راجہ خرم اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کی سزاوں میں اضافے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی دی گئی ایک ایک سال کی سزائیں بحال کر دی۔

سزاوں میں مزید اضافے کی حکومتی اپیل پر ملزمان کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 187 کا خصوصی اختیار استعمال کرتے ہوئے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی سیکشن 328 اے کے تحت سزا کیخلاف اپیلیں زیر التواء ہیں، لہٰذا اڈیالہ جیل انتظامیہ ملزمان کو عدالتی نوٹس سے آگاہ کرے۔ عدالت نے قرار دیا کہ رجسٹرار آفس ملزمان کو نوٹس موصول ہوتے ہی اپیل سماعت کیلئے مقرر کرے۔

واضح رہے طیبہ پر تشدد کا واقعہ 27 دسمبر 2016 کو اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں پیش آیا، جس کے بعد پولیس نے 29 دسمبر کو سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم کے گھر سے طیبہ کو تحویل میں لے کر واقعے میں ملوث دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

بعد ازاں 3 جنوری 2017 کو طیبہ کے والدین کی جانب سے راجہ خرم اور ان کی اہلیہ کو معاف کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے اس راضی نامے پر ملزمان کی ضمانت منظور کر لی۔

راضی نامہ سامنے آنے پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لے لیا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے طیبہ کو بازیاب کروا کے پیش کیا۔ عدالتی حکم پر 12 جنوری 2017 کو راجہ خرم علی خان کو بطور جج کام کرنے سے روک دیا گیا۔ بعد ازاں جسٹس ثاقب نثار نے مقدمے کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھجوا دیا جہاں 16 مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں 11 سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 غیر سرکاری افراد شامل تھے۔

مقدمے میں ایک دلچسپ موڑ چھ جنوری 2017 کو آیا جب سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت کا آغاز ہوا۔ سماعت کے دوران دس سالہ طیبہ کی ماں ہونے کی دعویدار دو خواتین سپریم کورٹ میں پہنچ گئیں۔ یہ دونوں خواتین فیصل آباد کی رہائشی تھیں جن میں سے ایک کا نام فرزانہ اور دوسری کا نام کوثر تھا۔ پولیس نے دس سالہ طیبہ کے والدین ہونے کے دعویداروں کا ڈی این اے ٹیسٹ لیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان کے اصل والدین کون ہیں۔

10جنوری 2017 کو طیبہ کے طبی معائنے کی ابتدائی رپورٹ جاری کی گئی۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے 4 ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ نے طیبہ کے طبی معائنے کے بعد رپورٹ اسلام آباد پولیس کے حوالے کی۔ میڈیکل لیگل رپورٹ (ایم ایل آر) کے مطابق طیبہ کے جسم کے مختلف حصوں پر زخموں کے 11 نشانات تھے، جس میں کنپٹی کے دائیں حصے اور ہاتھ پر زخموں کے نشانات واضح تھے۔ اس کے علاوہ بازو، ٹانگوں اور کمر پر بھی تشدد کے نشانات پائے گئے تھے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/10/2867

Leave A Reply

Your email address will not be published.