یوکرائنی مسافر طیارے کی تباہی؛ پینٹاگون نے بڑا دعوی کر دیا

واشنگٹن: دو روز قبل تباہ ہونے والے یوکرائنی مسافر طیارے کے حوالے سے پینٹاگون نے ایک بڑا  دعویٰ کر دیا ہے۔ پیٹاگون کے مطابق تہران میں گرنے والا یوکرائن کا مسافر طیارہ ایران کا میزائل لگنے سے تباہ ہوا۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق طیارہ روسی ساختہ ایس اے 15 میزائلوں سے گرایا گیا اور ایرانی ریڈار سگنلز کو جیٹ لائنز پر لاک کرتے دیکھا گیا۔ امریکی میڈیا نے طیارے کو میزائل لگنے کی مبینہ ویڈیو بھی جاری کر دی ہے۔ دوسری جانب کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک بھی خفیہ رپورٹس کی بنیاد پر دعویٰ کر رہے ہیں کہ مسافر طیارہ  میزائل لگنے سے حادثے کا شکار ہوا۔

یوکرائنی حکومت کے ذرائع کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ مسافر طیارہ ایرانی میزائل لگنے سے تباہ ہوا۔ تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی حتمی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ امریکہ کے نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی)، جو ہر بین الاقوامی حادثے کی تفتیش میں شامل ہوتا ہے، کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ حادثے سے سامنے آنے والی دیگر معلومات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ این ٹی ایس بی نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کی ایک ٹیم تہران میں مسافر طیارہ تباہ ہونے کی تفتیش میں شامل ہو گی۔

ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن کی ایک تحقیقاتی ایجنسی کو شامل تفتیش ہونے کا کہا ہے۔  غیر ملکی ذرائع کے مطابق ایران کے وزیر ٹرانسپورٹ نےکہا ہے کہ یوکرائنی طیارہ ایک ’تکنیکی‘ خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا۔ ایرانی تفتیش کاروں کے مطابق تباہ ہونے والے طیارے نے ’تکنیکی‘ خرابی پیدا ہونے پر مدد کا کوئی پیغام نہیں بھیجا۔ 

یوکرائنی سیکیورٹی کونسل کے اولکس ڈانیلوو کے مطابق نے یوکرائن کے میڈیا کو بتایا ہے کہ ’’فی الوقت یوکرائنی ماہرین کئی مفروضات پر سوچ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک میزائیل حملہ بھی ہے۔ ڈانیلوو کے مطابق ان مفروضات میں سب سے اہم روسی ساختہ ’تور‘  میزائیل کا حملہ ہے کیونکہ انٹرنیٹ پر یہ خبریں آ رہی ہیں کہ طیارے کے تباہ ہونے کے مقام پر مذکورہ میزائیل کے ٹکڑے بھی ملے ہیں۔ ‘‘  ایران آنے والے یوکرائن کے ماہرین تاحال طیارے کے تباہ ہونے کے مقام پر جانے کے لیے ایرانی حکومت کی اجازت کے منتظر ہیں۔

خیال رہے کہ دو روز قبل ایران کے دارالحکومت تہران سے یوکرائن جانے والا مسافر طیارہ اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد حادثہ کا شکار ہوگیا تھا۔ طیارہ امام خمینی ائرپورٹ سے ٹیک آف کے کچھ دیر بعد گر کر تباہ ہوا جس میں سوار تمام 179 مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔ بین الاقومی خبر ایجنسی کے مطابق  مسافر طیارے میں ایران، کینیڈا، سویڈن اور یوکرائن کے شہری سوار تھے۔

ایران نے بلیک باکس دینے سے انکار کر دیا

ذرائع کے مطابق ایران کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے علی عابد زادہ نے کہا ہے کہ ایران تباہ ہونے والے بلیک باکس کسی بھی ملک یا کمپنی کے حوالے نہیں کرے گا۔

بلیک باکس کیا ہوتا ہے؟

کسی بھی کمرشل طیارے میں دو طرح کے ریکارڈ لگائے جاتے ہیں۔ پہلے ریکارڈر کو فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (ایف ڈی آر) کہا جاتا ہے۔ یہ ریکارڈر دوران پرواز تمام تر سرگرمیوں کا ڈیٹا ریکارڈ کرتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں طیارے کی سمت، بلندی، تیل، رفتار، موسم کی تندی اور کیبن کے درجہ حرارت وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ اس ریکارڈر میں 25 گھنٹے تک اس قسم کی 88 سرگرمیوں کو ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ یہ باکس ایک گھنٹے تک گیارہ ہزار ڈگری اور دس گھنٹے تک 260 ڈگری درجہ حرارت برداشت کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ ریکارڈر ٹائٹنیم کے ایک ایسے خول میں محفوظ کیا جاتا ہے جو حادثے کے بعد بھی تباہ نہیں ہوتا۔ سیکیورٹی نقطہ نظر سے یہ ریکارڈر جہاز کے پچھلے حصے میں لگایا جاتا ہے۔

دوسرا ریکارڈ کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں کاک پٹ میں ہونے والی تمام تر گفتگو ریکارڈ ہوتی ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/10/2871 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment