’خدشہ ہے یوکرائنی طیارہ ایران کے میزائل سے تباہ ہوا‘

امریکہ، کینیڈا اور برطانوی عہدے داروں نے الزام لگایا ہے کہ قوی امکان ہے کہ ایران نے تہران کے قریب منگل کے روز گر کر تباہ ہونے والے سویلین یوکرائن کے جیٹ لائنر کو میزائل مار کر گرایا گیا ہے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ہمارے پاس متعدد ذرائع سے معلومات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارے کو میزائل سے گرایا گیا تھا۔ اتحادیوں اور کینیڈا کی اپنی انٹیلی جنس سے حاصل کردہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے ٹروڈو نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ طیارہ زمین سے ہوا (SAM) میں مار کرنے والے میزائل کی زد میں آیا ہے۔ ٹروڈو نے صحافیوں کو بتایا، ’’ہم جانتے ہیں کہ یہ غیر ارادتا کیا گیا ہو گا، لیکن کینیڈا کے پاس طیارہ حادثے کے حوالے سے سوالات ہیں، اور وہ جواب چاہتے ہیں۔‘‘

یاد رہے ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے آٹھ جنوری کو عراق میں امریکہ کے دو فوجی اڈوں پر ایک درجن سے زائد بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ اسی روز تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے یوکرین کے دارالحکومت کیف کے لیے پرواز بھرنے والا یوکرینی مسافر طیارہ بھی گر کر تباہ ہوا تھا۔

جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ان کی حکومت اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھے گی جب تک معاملے کی شفاف تحقیقات، احتساب اور انصاف نہیں کیا جاتا۔

دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کا ذمہ دار ایران ہے اور ایران کے ابتدائی دعوے کو مسترد کردیا کہ یہ طیارے میں کوئی تکنیکی مسئلہ تھا۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں مان سکتے کہ تیکنیکی مسئلے کی وجہ طیارہ گر کر تباہ ہوا۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ المناک چیز ہے، دوسری طرف کسی کی غلطی بھی ہو سکتی ہے۔‘

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی حکام نے بھی جمعرات کو سیٹیلائٹ ڈیٹا کی تازہ ترین تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اینٹی ایئر کرافٹ میزائل سے ہی مسافر طیارے کو گرایا گیا ہے۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین کا طیارہ بوئنگ 800-737 ایرانی ریڈار پر تھا۔ امریکہ کے تین حکام نے ’رائٹرز‘ کو بتایا ہے کہ امریکی حکومت سمجھتی ہے کہ ایران نے غلطی سے مسافر طیارہ مار گرایا ہے۔

ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربی کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تمام اطلاعات ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ کے مترادف ہیں۔ ایران کی شہری ہوا بازی کی تنظیم کے تفتیش کاروں نے اس تباہی کے بارے میں فوری طور پر کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ ایرانی عہدے داروں نے ابتدائی طور پر اس حادثے کے لئے تکنیکی خرابی قرار دیا تھا۔ ایرانی حکومت کے ترجمان نے پیش کش کی ہے وہ تمام ممالک جن کے شہری حادثے کے شکار طیارے میں سوار تھے، وہ اپنے نمائندے ایران بھیجیں اور ’ہم طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو بھی پیش کش کرتے ہیں کہ وہ نمائندے تہران بھیج کر تحقیقاتی عمل کا حصہ بن سکتے ہیں۔‘

یاد رہے منگل کے روز تہران میں گرنے والے یوکرائن کے طیارے میں 176 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں کینیڈا کے63 شہری بھی شامل تھے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/10/2874

متعلقہ خبریں

Leave a Comment