پاکستان نے ریکوڈک کیس میں جرمانے کے خلاف امریکی عدالت سے رجوع کر لیا

اسلام آباد: پاکستان نے ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالر ہرجانے کے خلاف امریکہ کی وفاقی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ پاکستان نے عدالت میں مؤقف اپنایا ہے کہ عالمی بینک کے فیصلے پر عمل درآمد سے ملک کے سیاسی اور معاشی استحکام پرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

عدالت میں مؤقف اپنایا گیا کہ پاکستان نے متعدد بنیادی اور طریقہ کار میں غلطیوں کے سبب ایوارڈ منسوخ کیا لہذا قانونی چارہ جوئی کے ساتھ آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ پاکستان کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے۔ پاکستان اس معیشت کو سہارا دینے کیلئے آئی ایم ایف سے گزشتہ برس چھ بلین ڈالر قرض لے چکا ہے۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ہرجانے کا فیصلہ کر نے والے ٹربیونل نے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے غلط طریقہ کار اپنایا اور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے تخمینے کی رقم میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوا۔

پاکستان نے آئی سی ایس آئی ڈی کو آگاہ کیا کہ مجوزہ پروجیکٹ ان معاہدوں پر مبنی تھا جو پاکستانی قانون کے تحت ناجائز تھے اور اسی وجہ سے ٹیتھیان کاپر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ریکوڈک کیس کیا ہے؟

ریکوڈک منصوبہ کا معاہدہ غیر ملکی کمپنی سے 23 جولائی 1993 کو کیا گیا۔ پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے 2011 میں ٹیتھیان کمپنی کا لائسنس منسوخ کر دیا۔ اس پر 2012 میں ٹیتھیان کمپنی نے ورلڈ بینک کے ٹربیونل میں پاکستان کے خلاف مقدمہ کر دیا۔ گزشتہ برس ریکوڈک کیس میں عالمی بینک کے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے پاکستان پر پانچ ارب 97 کروڑ ڈالر جرمانہ عائد کر دیا تھا۔

یاد رہے چلی اور کینیڈا کی مائننگ کمپنی ٹیتھیان کاپر نے پاکستان پر 16 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان اس ہرجانے کی رقم 16 ارب سے کم کروا کے 6 ارب ڈالر تک لانے میں کامیاب ہو گیا۔

ریکوڈک کیا ہے؟

ریکوڈک بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایک چھوٹے سے قصبے کا نام ہے۔ پاک ایران سرحدی علاقے میں واقع اس قصبے میں اربوں ڈالرز کی قیمتی دھاتیں دریافت ہو چکی ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی مالیت 260 بلین ڈالر سے زائد ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/10/2896

متعلقہ خبریں

Leave a Comment