بچوں کے تحفظ کے لیے تاریخی ’زینب الرٹ بل‘ منظور کر لیا گیا

اسلام آباد: جنوری 2018 میں قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی زینب کی دوسری برسی کے موقع پر بچوں کے تحفظ کے لیے قومی اسمبلی نے انتہائی اہم ’زینب الرٹ بل‘ متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔

وفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نے ’زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی بل 2019‘ پیش کیا جس کی ایوان نے شق وار منظوری دی۔ قومی اسمبلی میں جو بل پیش کیا گیا تھا اس میں بچوں سے زیادتی اور قتل پرسزائے موت، مجرم کو ایک سے 2 کروڑ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی تھی۔ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے سزائے موت کو ختم کر کے عمر قید اور ایک سے 2 کروڑ روپے جرمانہ کم کرکے 10 لاکھ روپے کر دیا۔

زینب الرٹ بل  کیا ہے؟

’زینب الرٹ بل‘ کے تحت بچوں سے زیادتی پر عمر قید یا کم سے کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال قید بامشقت کی سزا کی منظوری دی گئی ہے جبکہ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔ اس بل کے تحت گمشدہ بچوں سے متعلق ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔ بچوں کے تحفظ کے لیے ایک ہیلپ لائن 1099 کے ڈائلنگ نمبر سے قائم کی جائے گی جس پر بچوں کی گمشدگی، اغوا اور زیادتی کی اطلاع فوری طور پر ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا، ہوائی و ریلوے اڈوں اور مواصلاتی کمپنیوں کے ذریعے دی جائے گی۔ بل کے مطابق بچوں سے متعلق جرائم کا فیصلہ 3 ماہ کے اندر کرنا ہوگا۔ جرم ثابت ہونے پرکم سے کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال قید سزا دی جاسکے گی۔ علاوہ ازیں10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوگا۔ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو سرکاری افسر 2 گھنٹے میں بچے کے خلاف جرائم پر ردعمل نہیں دے گا اسے بھی سزا دی جاسکے گی۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کا اغوا، قتل، زیادتی، ورغلانے اور گمشدگی کی ہنگامی اطلاع کے لئے زینب الرٹ جوابی ردعمل و بازیابی ایجنسی قائم کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: بچوں کے تحفظ کے لیے زینب الرٹ بل منظور

حکومتی رکن نے مجرموں کو چوک میں پھانسی دینے کا مطالبہ کیا جس پر شیریں مزاری نے کہا کہ اس کیلئے قانون میں مزید ترمیم کی ضرورت ہے۔

یاد رہے 20 دسمبر 2019  کوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے زینب الرٹ پر غور کے بعد بل میں ترامیم کی منظوری دے کر بل متفقہ طورپر منظور کیا تھا۔

واضح رہے 4 جنوری 2018 کو قصور سے زینب انصاری نامی بچی کو اغوا کے بعد جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اس قتل کے بعد ملک بھر میں پر تشدد مظاہرے ہوئے۔ 

 

آئی ڈی: 2020/01/10/2916 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment