سموگ کا بڑھتا راج

Hira Ahmad

حالیہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں فضائی آلودگی میں نمایاں حد تک اضافہ دیکھنے میں  آیا ہے جو ہر سال شدت اختیار  کرتا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے ان تبدیلیوں کو انتہائی خطرناک قرار دیا  ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ برسوں میں ان تبدیلیوں کے اثرات اور زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ملک میں پھیلی یہ فضا ئی آلودگی جیسے ہم  سموگ کا نام دیتے ہیں، خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ سموگ نے کئی دنوں سے پنجاب  کے مختلف شہروں خصوصاَ  لاہور  کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ صوبائی دارالحکومت کی فضا روز بروز آلودہ ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور میں فروری تک سموگ کا راج برقرار رہے گا۔

سموگ دھوئیں اور دھند سے مل کر بنتی ہے، دھوئیں میں چونکہ کاربن مونو اکسائیڈ، نائٹروجن اور دیگر زہریلا مواد شامل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سموگ زہریلی ہوتی ہے اور انسانی صحت  کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ سموگ کے بننے کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں اور اس کے ساتھ ساتھ زمین پر انسانوں کی ماحول دشمن سرگرمیاں ہیں، جن میں فیکٹریوں سے خا رج ہونے والا زہریلا دھواں، کھیتوں میں لگائی جانے والی آگ، اینٹوں کے بھٹوں سے  پھیلنے والا آلودہ دھواں اور اس کے علاوہ دھواں چھوڑتی فیکٹریاں اور گاڑیاں سر فہرست ہیں۔ فضا آلودہ سے آلودہ تر ہونے کی وجہ سے اوزن کی لہر بھی متاثر ہوتی جارہی ہے،  جو ہر سال درجہ حرارت کو  بڑھا رہی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے موسم سرما میں سموگ  میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا خاتمہ یقیناَ صوبائی اور وفاقی حکومت کے لیے بڑا چیلنچ ہے۔ اگرچہ سموگ کی فضا میں سکولوں کا بند کر دینا ایک اچھا اقدام ہے، تاہم یہ دائمی مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ تعلیی اداروں کو  وقتی طور پر تو بند کیا جا سکتا ہے۔ مگر ایک طرف تو تعلیم کا نقصان تو دوسری جانب دیگر شعبہ زندگی سے وا بستہ افراد کا کاروبار زندگی مفلوج ہو جاتا ہے۔

سموگ جیسے بڑے مسئلے سے نمٹنے کے لئے رواں  برس حکومت نے بہت سے پیشگی اقدامات کیے، جن میں فیکٹری مالکان  اور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کو کچھ ہدایات جاری کی گئیں۔  مزید بر آں دھواں کنٹرول کرنے والے آلات نصب کیے جانے کی وجہ سے بڑی حد تک کامیابی بھی ہوئی مگر پھر بھی اس سے بڑھ کر کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ ہر سال شدت اختیار کر رہا ہے اور مختلف بیماریوں کا موجب بن رہا ہے۔ 

دوسرا اہم چیلنج ہماری حکومت کے لیے پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے فصلوں کی باقیات کو جلانے سے بننے والا زہریلا دھواں ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے آنے والے دھوئیں کے باعث پاکستان میں سموگ میں اضافہ ہوا۔  اس وجہ سے بے شمار شہری  سانس، دمے، گلے اور دیگر امراض کا شکار ہوئے۔ اس مسئلے پر پڑوسی ملک سے بھی تعاون کا کہا جائے کہ وہ فصلوں کے مڈھوں کو جلانے سے اجتناب کرے، کیونکہ سموگ صرف ہمارا  اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ یہ خطے کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم سموگ پر حالیہ اقدامات  کر کے قابو   پا بھی لیتے ہیں،  پھر بھی اس کا مکمل سدباب کرنے میں ناکام رہیں گے، کیونکہ بھارت اس کی روک تھام کیلئے ہر معاملے کی طرح اس مسئلے کو بھی سنجیدگی سے نہیں لے رہا، نہ ہی کوئی اقدامات کر رہا ہے۔ 

حالیہ فضائی آلودگی کا یہی سبب ہے۔ دھوئیں نے دھند سے مل کرسموگ کی  فضا پیدا کر کے صوتحال کو زیادہ خطرناک  بنا دیا ہے۔ جس  کی وجہ سے پاکستان کے بڑ ے شہر کراچی اور لاہور ماحولیاتی آلودگی کا نمونہ بن چکے ہیں۔ ان شہروں کی آب و ہوا انسانوں کے لیے ہی  نہیں بلکہ جانوروں کے لیے بھی مضر ہو چکی ہے۔

اس صوتحال کو دیکھتے ہوئے کراچی جنوبی ایشیاء کی سب سے بڑی  کچرے کی مارکیٹ  بن گئی ہے جبکہ  دوسری طرف لاہور فضائی آلودگی کی بنیاد پر سر فہرست ہے۔

ان تمام پہلووٗں کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس مسئلے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ہنگامی اقدامات کرے۔ مختلف ماحولیاتی تنظیموں اور ماحولیات پر گہری نگاہ رکھنے والے ماہرین کے ساتھ مل کر سموگ اور اس سے بچاوؑ کے حوالے سے ایک جامع اور مربوط پالیسی تشکیل دیں۔ ورنہ آنے والے سالوں میں خطے کو سموگ فری بنانا مشکل ہو جا ئے گا!

 

آئی ڈی: 2020/01/10/2934

متعلقہ خبریں

Leave a Comment