عمان کے سلطان قابوس بن سعید انتقال کر گئے

عمان کے سرکاری میڈیا کے مطابق عمان کے سلطان قابوس بن سعید انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 79 برس تھی۔ سلطان قابوس 1970 میں تخت پر بیٹھے۔

عمانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عمانی کونسل کے اعلی ترین عسکری کونسل نے حکمران خاندان سے نئے سلطان کے انتخاب کی درخواست کر دی ہے۔ 1996 کے ایک قانون کے تحت حکمران خاندان کے لیے لازم ہے کہ وہ تخت خالی ہونے کے تین دن کے اندر نئے سلطان کا انتخاب کرے۔  ایسی صورتحال میں، جب خاندان نئے سلطان کا انتخاب کرنے میں ناکام ہو جائے، عسکری اور سیکیورٹی حکام، سپریم کورٹ کے چیفس اور دونوں اسمبلوں کے سربراہ اس شخص کو تخت پر بٹھا سکتے ہیں، جس کا نام سلطان کے مہر بند خط میں موجود ہوتا ہے۔

شاہی کورٹ کے دیوان نے ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ دیوان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’’سلطان قابوس جمعے (10 جنوری) کو انتقال کر گئے‘‘۔ شاہی کورٹ نے چالیس دن کے لیے قومی پرچم کو بھی سرنگوں رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عمانی آئین میں موجود شرائط کے تحت ’’سلطان کے لیے شاہی خاندان سے ہونے کے علاوہ مسلمان، بالغ، ذی شعور اور عمانی والدین کی اولاد ہونا لازم ہے۔ ‘‘ شاہی خاندان میں اس معیار پر قریباً 80 افراد اترتے ہیں لیکن ذرائع کے مطابق فی الوقت صرف ایک نام ہی زیر بحث ہے اور وہ ہے اسد بن طارق۔ اسد بن طارق مرحوم سلطان قابوس بن سعید کے چچا زاد بھائی ہیں اور تعلقات اور بین الاقومامی تعاون کے معاملات کے نائب وزیر اعظم ہیں۔ انہیں ایک شاہی فرمان کے ذریعے 3 مارچ 2017 کو نائب وزیر اعظم تعینات کیا گیا۔

واضح رہے سلطان قابوس کی کوئی اولاد تھی، نہ ہی انہوں نے اپنے جانشین اعلان کیا۔ ذرائع کے مطابق اس صورتحال کے لیے، کہ جب شاہی خاندان نئے سلطان کا انتخاب نہ کر سکے، سلطان قابوس نے ایک مہر بند خط میں اپنے جانشین کا نام چھوڑا ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/11/2959 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment