ایران نے یوکرائنی طیارے کو غیر ارادی طور پر مار گرانے کا اعتراف کر لیا


تہران: ایران نے چند روز قبل گر کر تباہ ہونے والے یوکرائنی طیارے کو مار گرانے کا اعتراف کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ آج کا دن ایک افسوسناک دن ہے۔ مسلح افواج کی طرف سے کی گئی تحقیقات میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ طیارہ مار گرانے کا واقعہ انسانی غلطی کی وجہ سے پیش آیا۔

جواد ظریف نے کہا کہ یہ واقعہ امریکہ کے ایڈونچر سے پیدا ہونے والے بحران میں انسانی غلطی کی وجہ سے پیش آیا۔

مزید پڑھیں: ’خدشہ ہے یوکرائنی طیارہ ایران کے میزائل سے تباہ ہوا‘

جواد ظریف نے تباہ ہونے والے طیارے کے مسافروں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہ ہے کہ ایران اس واقعے پر ہلاک ہونے والے مسافروں کے اہل خانہ سے معافی کا خواستگار ہے۔

یاد رہے چند روز قبل تہران سے اڑنے والا یوکرائنی مسافر طیارہ اڑنے کے کچھ ہی دیر بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ یہ طیارہ تہران سے یوکرائن کے دارالحکومت کیف جا رہا تھا اور میں 167 مسافر اور عملے کے 9 اراکین شامل تھے۔  طیارے کے مسافروں میں کینیڈا، یوکرائن، کینیڈا اور سوئیڈن کے شہری سوار تھے، جن میں 82 ایرانی، 11 یوکرائنی اور 63 کینیڈین باشندے سوار تھے۔

مزید پڑھیں: یوکرائن کا مسافر طیارہ ایران میں گر کر تباہ

اس حادثے کے بعد ایران میں یوکرائنی سفارتخانے نے ایک بیان جاری کیا کہ یہ حادثہ انجن فیل ہونے کے بعد پیش آیا۔ یہ بیان بعد میں تبدیل کر لیا گیا۔

واضح رہے اس حادثے کے بعد کینیڈا کے جسٹس ٹروڈو اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’خدشہ‘ ظاہر کیا تھا کہ یہ طیارہ کسی حادثے کا شکار نہیں ہوا، بلکہ اسے مار گرایا گیا ہے۔

آئی ڈی: 2020/01/11/2962 

Leave A Reply

Your email address will not be published.