نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کی ناقص تعمیر، کسٹمز کو عمارتیں فوری خالی کرنے کی ہدایات جاری

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے دورحکومت میں بنائے گئے ایک اور اہم منصوبے میں مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ سول ایوی ایشن حکام نے نیو اسلام آباد ائیر پورٹ پر واقع پاکستان کسٹمز کے دفاتر کو ناقص تعمیر کے باعث خطرناک قرار دیتے ہوئے خالی کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق سول ایوی ایشن حکام نے عمارتوں کے گرنے کے خطرے کے پیش نظر پاکستان کسٹمزکو اپنے دفاتر ائیرپورٹ کی عمارتوں سے کہیں اور منتقل کرنےکی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق نیو اسلام آباد ائیرپورٹ کی تعمیر کو ابھی دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے مگر ناقص تعمیر کی وجہ سے عمارتیں مخدوش ہو چکی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ناقص تعمیر کی وجہ سے سول ایوی ایشن اور پاکستان کسٹمز کے زیر استعمال عمارتیں کسی بھی وقت گر سکتیں ہیں، جبکہ حال ہی میں آنے والے زلزلے کے باعث ان عمارتوں میں مزید دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ کسٹمز کے ایک سینئر افسر کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ اپنے دفاتر کے لیے متبادل جگہ کا بندوبست کر لیں، تاہم ہمیں نہیں معلوم کہ ہمیں اب کہاں جانا ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ حکومت نے نیو اسلام آباد ائیر پورٹ میں کرپشن کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے، تاہم مذکورہ کمیٹی نے اب تک کوئی رپورٹ پیش نہیں کی ہے۔

یاد رہے نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کا افتتاح سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یکم مئی 2018 کو کیا تھا۔ اس منصوبے پر کل 130  ارب روپے لاگت آئی تھی۔

جمعہ کے روز چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سپریم کورٹ کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سول ایوی ایشن کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ اسلام آباد ائیر پورٹ کی عمارتیں کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔

 

آئی ڈی: 2020/01/11/3009

متعلقہ خبریں

Leave a Comment