ایم کیو ایم پاکستان نے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کر دیا


کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وفاقی وزارت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ 2018 میں عام انتخابات میں جو نتائج آئے وہ ایم کیوایم مکمل طور پر قبول نہیں کیے۔ ایم کیو ایم نے نتائج تسلیم نہ کرنے کے باوجود جمہوری عمل کو مستحکم کرنے کے لئے اسکی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ حکومت بنانے سمیت ہر مشکل میں ساتھ دیں گے۔ جہانگیر ترین آئے تھے اور ان ہی کی موجودگی میں معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

مزید پڑھیں: بلاول بھٹو نے ایم کیو ایم کو بڑی آفر کر دی
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کیا۔ ہم بہت انتظار کرتے رہے کہ حکومت کی کچھ مصروفیات ہو سکتی ہیں، لیکن ہمارے ایک نکتے پر بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ہمارا حکومت سے تعاون برقرار رہے گا، لیکن میرا وزارت میں بیٹھنا بہت سارے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ میرا اب کابینہ میں بیٹھنا بے سود ہے۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی کی آفر؛ حکومتی رابطہ کمیٹی کا ایم کیو ایم سے ملاقات کا فیصلہ
کنوینر ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ہم نے وزارت قانون وانصاف نہیں مانگی تھی۔ فروغ نسیم کابینہ نہیں چھوڑ رہے۔ پہلے تجربے کی کمی سمجھتے رہے، لیکن اب لگتا ہے سنجیدگی ہی نہیں۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ان ساری چیزوں کا پیپلز پارٹی کی پیشکش سے لینا دینا نہیں۔ ہم حکومت سے تعاون جاری رکھیں گے۔

واضح رہے حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک جلسے میں ایم کیو ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایم کیو ایم وفاق کو چھوڑ کر ان کے سا تھ شامل ہو جائے اور حکومت گرانے میں ان کا ساتھ دے۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم  کے  پاس جتنی وزارتیں وفاق میں ہیں، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم کو سندھ میں دینے کے لیے تیار ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/12/3061 

Leave A Reply

Your email address will not be published.