فصلوں پر اسپرے کرنے والے 20 جہاز ناکارہ ہونے کا انکشاف


نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے ذیلی ادارے پلانٹ پروٹیکشن کے 20 جہاز کھڑے کھڑے خراب ہو گئے۔  محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے یہ تمام جہاز 1960 میں خریدے گئےتھے۔  1960 سے 90 کی دھائی تک یہ جہاز پاکستان کے چاروں صوبوں میں فضائی  اسپرے کے لئے استعمال ہوتے رہے۔ یہ جہاز فصلوں اور باغات پر مفت سپرے کرتے تھے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد فضائی اسپرے سے فصلوں کو ٹڈی دل سمیت دیگر کیڑے مکوڑوں سے بچانا تھا۔

  قریبی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس محکمے کے10 جہاز لاہور اور 10 کراچی ائیرپورٹ میں پارک ہیں۔ ان بیس جہازوں میں پندرہ مکمل طور پر ناکارہ ہوچکے ہیں۔

2004 سے یہ جہازوں اسپرے کے لیے نہیں کیے گئے۔ اس کے علاوہ جہازوں کو اڑانے کے لیے پائلٹس کی بھی کمی ہے۔ جہازوں کی دیکھ بھال پر معمور اکثر انجینئرز ریٹائیر ہو چکے ہیں، جبکہ باقی بھی رواں سال دسمبر میں ریٹائیر ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں: ٹڈی دل کے تدارک کے لیے اڑنے والا جہاز گر کر تباہ

وفاق میں گزشتہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ان  جہازوں کی مرمت کے لئے  دس ملین  روپے سالانہ جاری  کرنے کا اعلان کیا۔ دو سال  میں اس رقم سے پانچ جہازوں کو اڑان کے قابل بنایا گیا رواں سال فروری میں پانچ جہازوں نے رحیم یار کے صحرائی علاقے میں مصنوعی بارش کا عملی مظاہرہ بھی کیا، لیکن سال کے آخر تک ان جہازوں نے کوئی اسپرے نہیں کیا۔

محکمے کے حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب اور سندھ سمیت دیگر صوبوں سے بڑے زمیندار اپنے فصلوں اور باغات پر اسپرے کے لیے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کو اسپرے کے لیے درخواست دیتے تھے، لیکن اب زمینداروں کی جانب سے بھی کوئی آرڈر نہیں دیا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ اب زمیندار فصلوں پر اسپرے اپنی مدد آپ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اس ادارے کا کام محدود ہو گیا ہے۔ محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے یہ کافی منافع بخش ادارہ تھا۔ فضائی اسپرے کے لیے بیرون ملک سے بھی آرڈرز ملتے تھے۔ حکام کا کہنا تھا ایک وقت میں ان جہازوں نے کئی خلیجی ممالک میں اسپرے کیے اور قومی خزانے کو فائدہ پہنچایا، لیکن اب حالات ویسے نہیں رہے۔

ان جہازوں کی سالانہ پارکنگ فیس بھی کافی زیادہ ہے۔ پلانٹ پروٹیکشن کا محکمہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کو پارکنگ فیس کی مد میں سالانہ پچیس لاکھ روپے ادا کرتا ہے. محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی جانب سے وفاقی حکومت کو جہازوں کی  نیلامی کی درخواست  ارسال کی گئی، لیکن گزشتہ اور موجودہ تحریک انصاف کی حکومت نے ادارے کو کوئی جواب نہیں دیا۔ ادارے میں کام کرنے والے چند افراد نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس نمائندے کو بتایا کہ یہ وینٹج جہاز ہے اور عالمی مارکیٹ میں ان کی نیلامی سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

مذکورہ جہاز بییورکے نام سے جانے جاتے ہیں جو 1947 سے 1967 تک کینیڈا میں تیار کیے گئے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/12/3029

Leave A Reply

Your email address will not be published.