امریکہ نے زیر تربیت سعودی فوجیوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کر لیا

امریکی نیوز چینل سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج میں تربیت لینےوالے ایک درجن سے زائد سعودی فوجیوں کو امریکہ سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ گزشتہ ماہ فلوریڈا کے پینساکولا کے نیول ائیر اسٹیشن میں فائرنگ کے بعد کیا جا رہا ہے۔
سی این این نے مزید بتایا ہے کہ فوجی تربیت لینے والے باقی فوجیوں پر سعودی فضائیہ کے21 سالہ لیفٹیننٹ محمد سعید الشامرانی کی مدد کرنے کا الزام نہیں ہے، لیکن کچھ کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ شدت پسند سوچ رکھتے ہیں۔ ایک دفاعی عہدیدار نے مزید بتایا ہے کہ متعدد سعودی فوجیوں پر بچوں کی فحش فلمیں رکھنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ ایف بی آئی اور محکمہ انصاف نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔
ترجمان لیفٹیننٹ کرنل رابرٹ کارور نے کہا کہ سانحہ پینسوکولا کے تناظر میں، محکمہ دفاع نے سعودی عرب سے آنے والے غیر ملکی فوجی طلباء کو کلاس روم  میں ٹریننگ پروگراموں تک محدود کر دیا ہے، جب کہ ہم نے غیر ملکی طالب علموں کی جانچ کے طریقہ کار کا جائزہ لیا ہے اور ہم اسکریننگ اور حفاظتی اقدامات کے نئے اقدامات کو نافذ کر رہے ہیں۔
پینساکولا کے اڈے پر لگ بھگ ایک درجن کے قریب فوجی تربیت لینے  والے سعودی فوجی ایک خاص علاقے میں  محدود کر دیئے گئے ہیں ۔ ایف بی آئی نے ممکنہ دہشت گردی کے حملے کے پیش نظر فائرنگ کی تحقیقات کیں ہیں اور پینٹاگون نے ملک میں موجود 850 سعودی فوجیوں کی تفتیش کی ہے۔
تفتیش کے دوران کسی بھی سعودی فوجی کے فائرنگ کے واقے میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ سعودی حکومت نے تحقیقات میں مکمل حمایت کا وعدہ کیا ہے۔
یاد رہے پچھلے سال دسمبر میں امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر پینساکولا میں امریکی بحری اڈے پر زیرِ تربیت سعودی فوجی محمد سعید الشامرانی نے فائرنگ سےتین افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے قاتل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

 

آئی ڈی: 2020/01/12/3079

متعلقہ خبریں

Leave a Comment