وفاقی کابینہ سے علیحدگی؛ اسد عمر سے ملاقات کے باوجود ایم کیو ایم کی ’نو‘

کراچی: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ کراچی کو جو حق دہائیوں سے نہیں ملا وہ دلانا ہے، یہ ایک مشترکہ جدوجہد ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کے اعلان کے بعد کراچی میں وفاقی وزیر اسد عمر نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقامت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ کراچی سے متعلق وزیراعظم کے منصوبوں کو ایم کیو ایم کی قیادت سے شیئر کیا۔ کچھ ایسے معاملات ہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے۔

شہر قائد سے متعلق اسد عمرکا کہنا تھا کہ جو حق دہائیوں سے نہیں ملا، وہ کراچی کو دلانا ہے، جو ایک مشترکہ جدوجہد ہے۔ کوشش ہے ساتھ مل کر کراچی کے لیے کام کریں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ فروری کے پہلے ہفتے میں وزیراعظم کراچی آئیں گے۔ وزیراعظم کراچی میں منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔ کراچی کے چھوٹے ترقیاتی منصوبے تو جاری ہیں۔ بڑے ترقیاتی منصوبے جلد شروع ہوں گے۔

ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اسد عمر کا کہنا تھا کہ کراچی میں انشا اللہ 162 ارب روپے سے زائد کے منصوبے ہوں گے۔ کراچی میں پانی کا منصوبہ کےفور تاخیر کا شکار ہوا۔ سندھ حکومت جیسے ہی کےفور پر رپورٹ مرتب کرے گی، کابینہ سے منظور کرائیں گے۔ کے فور سے متعلق اسد عمر کا کہنا تھا کہ منصوبے کی لاگت کم سے کم دو گنا بڑھ چکی ہے۔ لاگت بڑھنے کے باوجود وفاقی حکومت کے فور منصوبے میں تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے سب سے بڑے 2مسائل پانی اور ٹرانسپورٹ ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے جو وعدے کیے تھے ان پر لگن سے کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ نوکریاں صرف سرکار دے گی۔ نوکریاں سرکار میں بھی آتی ہیں اور پرائیوٹ سیکٹر میں بھی آتی ہیں۔

ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی، مذاکرات نہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا، تاہم استعفی واپس نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے وعدے پورے نہ کرنے کا گلہ کیا ہے۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت وفاق کیساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

اس ملاقات کے بعد ایم کیو ایم نے اسد عمر کی یقین دہانی کے باوجود اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا اور اطلاعات ہیں کہ کابینہ میں رہنے یا نہ رہنے کا حتمی فیصلہ جہانگیر ترین کی سربراہی میں بننے والی تین رکنی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد کیا جائے گا۔

 

آئی ڈی: 2020/01/13/3118 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment