قومی اسمبلی کے ترقی پانے والے ملازمین میں لیٹرز تقسیم

National Assembly

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پیر کے روز 239 افسروں اور معاون عملے کے ملازمین میں اگلے گریڈ میں ترقی لیٹر تقسیم کیے۔ ترقی پانے والوں میں 83 ایکس کیڈر افسران اور 156 معاون عملے کے ملازمین کو اگلے گریڈ میں ترقی کے لیٹرز  تقسیم کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں ترقی پانے والے افسران اور معاون عملے میں لیٹرز کی تقسم کے لیے ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، اراکین قومی اسمبلی امجد علی خان، آغا رفیع اللہ اور مولانا عبدالاکبرچترالی، سیکریٹری قومی اسمبلی طاہر حسین، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اعلیٰ افسران اور عملے کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

قومی اسمبلی ملازمین کو یہ ترقیاں اسپیکر قومی اسمبلی کی ایک ہدایت پر قومی اسمبلی کے ملازمین کے لیے منظور کیے جانے والے نئے رولز کےتحت دی گئی ہیں۔ ان رولز کےتحت قومی اسمبلی کےملازمین کو ترقی کے یکسان مواقع کی فراہمی کے علاوہ ٹائم اسکیل اپ گریڈیشن بھی دیا گیا ہے۔ ان رولز کے اجرا کے بعد پہلے مرحلے میں 38 معاون عملے کے ملازمین اور افسران کو ترقیاں دی گئیں تھیں۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں 239 ملازمین کو اگلے گریڈ میں اپ گریڈیشن کی منظوری دی گئی ہے۔ نئے رولز کے تحت چیمبر اٹینڈنٹ، ڈسپیچ رائیڈر، قاصد، نائب قاصد اور تمام مشین آپریٹر کو ہر پانچ سال بعد اگلے گریڈ میں ترقی دی جائے گی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اگلے گریڈ میں ترقی پانے والے ملازمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ان ملازمین کو، جو گزشتہ کئی سالوں سے ترقی کے منتظر تھے، اگلے گریڈ میں ترقی کے لیٹرز جاری کرتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کااظہار کیا کہ اگلے گریڈ میں ترقی پانے والے ملازمیں پہلے سے زیادہ دلجمعی کے ساتھ اپنے فرائض منصبی سرانجام دیں گے اور  ادارےکی ترقی اور وقار میں اضافے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔

ترقی پانے والے ملازمین نے، جو گزشتہ کئی سالوں سے ترقی پانے کےمنتظر تھے، اسپیکر قومی اسمبلی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ان کاشکریہ ادا کیا۔ ملازمین کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے اس احسن اقدام سے ملازمین میں پائی جانے والے مایوسی کا خاتمہ ہو گا اور وہ پہلے سے بہتر طریقےسے اپنے فرائض منصبی سرانجام دیں گے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/13/3141 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment