لاہور ہائی کورٹ نے مشرف کیس میں خصوصی عدالت کی تشکیل کالعدم قرار دے دی

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کی سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اس کیس کی سماعت کرنے والے دیگر ججز صاحبان میں جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس مسعود جہانگیر شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے پرویز مشرف کی درخواست پر سماعت کی اور طویل دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت میں وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے گزشتہ سماعت پر لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ کی طرف سے مانگی گئی سمری بھی پیش کر دی۔ عدالت میں بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے اس مقدمے کی تحقیقات کیں تھیں۔ 20 سے 25 افراد سے تحقیقات کی گئیں، لیکن خصوصی عدالت میں ان میں سے ایک شخص، جو کہ تفتیش میں شامل تھا، وہ پیش ہوا۔

مزید پڑھیں: سنگین غداری کیس: لاہور ہائی کورٹ کا فل بینچ تشکیل

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کبھی جمہوری نظام میں عدالتوں کے دائرہ اختیار کو ختم کیا گیا ہے؟ یہ نکتہ آصف علی زرداری کے والد کے کیس میں طے کیا گیا۔ آپ مثال لے لیں، ضمانت کا تصور نہیں تھا۔ کیا عدالتوں نے اسکی تشریح نہیں کی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاقی حکومت نے سیکرٹری داخلہ کو کمپلینٹ درج کروانے کی ہدایت کی۔ جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دیئے کہ آئین میں لکھا ہے کہ وزیرا عظم چاہے تو وزارت خود رکھ کرسمری بھجوا دے۔ جسٹس مسعود جہانگیر نے ریمارکس دیئے کہ اگر کابینہ کا کوئی ممبر نہ ہو، تو پھر رولز آف بزنس چل ہی نہیں سکتے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کو نیا نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے تھا یا پرانے نوٹیفکیشن کی تصدیق کرتی۔ 18 ویں ترمیم میں آرٹیکل 6 میں معطلی، اعانت اور معطل رکھنے کے الفاظ شامل کیے گئے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ ضیا الحق نے کہا تھا کہ آئین کیا ہے، 12 صفحوں کی کتاب ہے۔ ضیا الحق نے کہا تھا کہ آئین کو کسی بھی وقت پھاڑ کر پھینک دوں، یہ آئین توڑنا تھا۔

مزید پڑھیں: پرویزمشرف کےخلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

جسٹس مظاہر علی کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی لگائی جائے گی تو پھر اس کا تعین ہوگا کہ کیا ایمرجنسی آئین کے مطابق لگی یا نہیں۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے وفاق کے وکیل سے استفسار کیا کہ پھر آئین سے انحراف کیسے ہو گیا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے کہا کہ آرٹیکل 6 میں آئین معطل رکھنے کا لفظ پارلیمنٹ نے شامل کیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ نے 3 لفظ شامل کر کے پورے آئین کی حیثیت کو بدل دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے ایمرجنسی کو شامل رکھا ہوا ہے۔ کسی ایک صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہو جائے تو کیا کیا جائے گا؟

لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ’’فیصلے کا انتظار کیا جائے‘‘۔

یاد رہے کہ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم سنایا  تھا، جبکہ خصوصی عدالت کی سربراہی کرنے والے جسٹس وقار سیٹھ نے فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر پرویز مشرف کی سزا پر عملدرآمد سے پہلے وفات ہو جاتی ہے تو ان کی لاش کو ڈی چوک میں لٹکایا جائے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/13/3110 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment