’درخواست گزار نے 10سال برمی پاسپورٹ اپنے پاس رکھا، لیکن چیلنج نہیں کیا‘

Islamabad High Court

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاسپورٹ پر برمی مسلمان لکھنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پٹیشنر نے 10سال برمی پاسپورٹ اپنے پاس رکھا لیکن چیلنج نہیں کیا۔ اب تو سارا ریکارڈ بین الاقوامی سطح پر موجود ہوتا ہے اس کو کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاسپورٹ پر برمی مسلمان لکھنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آئندہ سماعت پر درخواست گزار وکیل عدالت کو مطمئن کریں۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پاسپورٹ 2014 کا بنا ہوا ہے اور اس پر برمی مسلمان لکھ دیا گیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کے پاسپورٹ پر برمی مسلمان کب لکھا گیا۔ جس پر وکیل نے کہا کہ 1996کے پاسپورٹ میں نہیں لکھا تھا، 2006کے پاسپورٹ میں لکھ دیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پٹیشنر نے 10سال برمی پاسپورٹ اپنے پاس رکھا لیکن چیلنج نہیں کیا۔ اب تو سارا ریکارڈ بین الاقوامی سطح پر موجود ہوتا ہے، اس کو کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ میرا تعلق برما سے نہیں ہے، بلکہ میری پیدائش مکہ میں ہوئی۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔ یاد رہے سمیر نامی شہری نے اپنے پاسپورٹ پر برمی مسلمان لکھنے کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/15/3535

متعلقہ خبریں

Leave a Comment