زینب الرٹ بل؛ انسانی حقوق کمیٹی نے قانونی اعتراضات لگا دئیے

اسلام آباد: زینب الرٹ بل پر متعلقہ سینٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے 7 قانونی اعتراضات اٹھا دئیے۔ پارلیمنٹ سے پاس ہونے والا زینب الرٹ بل قانونی اعتراضات دور کرنے کے بعد ہی نافذ العمل ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق سینٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں زینب الرٹ بل پر بحث کرتے ہوئے کمیٹی نے اعتراضات اٹھا دئیے۔ وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا زینب الرٹ بل کو جلد از جلد منظور کریں۔ زینب الرٹ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں آٹھ ماہ زیر غور رہا۔ کمیٹی نے زینب الرٹ بل کے حوالے سے 7  قانونی اعتراضات کی نشاندہی کر دی۔

چئیرمین کمیٹی مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ہم نے زینب الرٹ بل میں قانونی اعتراضات کی نشاندہی کی ہے۔ وزارت انسانی حقوق اور کمیٹی ممبران ان قانونی اعتراضات کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس 20 جنوری کو رکھتے ہیں، جس میں ان معاملات کو زیر غور لائیں گے۔ مصطفی نواز نے کہا کہ زینب الرٹ بل کی حدود اسلام آباد تک ہے۔ زینب الرٹ بل میں جرائم اور سزائیں شامل ہیں، جو اسے کرمنل قانون بناتا ہے۔ زینب الرٹ بل سے جرائم اور سزائیں نکال دیں، یا پھر اس کا اطلاق ملک بھر میں کریں۔

مزید پڑھیں: بچوں کے تحفظ کے لیے تاریخی ’زینب الرٹ بل‘ منظور کر لیا گیا

مصطفی نواز کھوکھر  نے کہا کہ زینب الرٹ بل میں اغوا کے ساتھ ٹریفیکنگ بھی شامل کیا جائے۔ زینب الرٹ بل میں اغوا برائے تاوان شامل کیا جائے، جبکہ بل میں  غلامی،اغوا برائے تاوان، اوت تشدد کی سزا ریپ اور قتل کی سزا سے مختلف کی جائیں۔

بعد ازاں مصطفی نواز نے میڈیا کہا کہ زینب الرٹ بل میں منقولہ کے ساتھ غیر منقولہ پراپرٹی ہتھیانے کی غرض سے اغوا کو بھی شامل کیاجائے۔ اس کے علاوہ بل میں اٹھارہ سال سے کم عمر کو بچے سے تبدیل کیا جائے۔ انہوں کہا کہ زینب الرٹ بل میں انسداد الیکٹرانک کرائم اور پی پی سی کا اطلاق بھی شامل کیا جائے۔

یاد رہے چند روز قبل قومی اسمبلی نے بچوں کے تحفظ کے لیے تاریخی ’زینب الرٹ بل‘ منظور کیا تھا۔

 

آئی ڈی: 2020/01/15/3273

متعلقہ خبریں

Leave a Comment