’نئی گاج ڈیم کے لیے جاری چھ ارب روپے غائب ہو گئے‘

Supreme Court of Pakistan

کراچی: سپریم کورٹ میں زیر زمین پانی پر ٹیکس عائد کرنے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت سے طلب کر لیا۔ پاکستان کونسل آف واٹر ریسرچ کو بھی عدالتی معاونت کیلئے نوٹس جاری کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے وفاق سمیت تمام صوبوں کو مل بیٹھ کر حل نکالنے اور تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سندھ حکومت کی جانب سے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ ہم سویلین حکومتوں کی بھرپور سپورٹ کرنا چاہتے ہیں۔ سویلین حکومتوں کو عدالتی فیصلوں پر عمل کرنا پڑے گا۔ سویلین حکومتیں کام نہ کریں تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئی ےکہ سندھ حکومت سے کس کو طلب کریں تاکہ یہ پیغام حکام بالا تک پہنچے؟

جسٹس فیصل عرب نے کہا سندھ حکومت نے نئی گاج ڈیم بھی تعمیر نہیں کیا۔ سندھ حکومت کو پانی کی کوئی فکر نہیں۔ سندھ حکومت شاید سمجھی ہے کہ سمندر ساتھ ہے، پانی کا مسئلہ نہیں ہوگا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا وفاق نے نئی گاج ڈیم کیلئے چھ ارب صوبائی حکومت کو جاری کیے تھے۔ نئی گاج ڈیم کیلئے وفاق کے جاری کردہ چھ ارب روپے بھی غائب ہو گئے۔ سندھ حکومت عدالتی فیصلے پر عملدرآمد رپورٹ نہیں دیتی۔ ہر سماعت پر عدالت سے معافیاں مانگی جاتی ہیں۔ چیف سیکرٹری کو طلب کریں تو ہی سندھ میں کوئی کام ہوتا ہے۔

دوران سماعت عدالت میں بلوچستان میں برفباری کا بھی تذکرہ ہوا۔ بلوچستان حکومت کے وکیل نے بتایا کہ حالیہ بارشوں اور برفباری سے ڈیم بھر گئے ہیں۔ بلوچستان پر اللہ کا بہت کرم ہوا ہے۔ بلوچستان میں تیس سال بعد اتنی بارش اور برفباری ہوئی۔

بعد ازاں عدالت نے نے وفاق سمیت تمام صوبوں کو مل بیٹھ کر حل نکالنے اور تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔

 

آئی ڈی: 2020/01/15/3583

متعلقہ خبریں

Leave a Comment