ایف بی آر ملازمین کی پروموشن؛ ’چئیر مین ایف بی آر کو طلب کر لیتے ہیں‘: چیف جسٹس


اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ملازمین کی پروموشن کیخلاف ایف بی آر کی اپیل پر متعلقہ افسر کو تمام تفصیلات پیش کرنے کاحکم دے دیا۔ دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئےکہ وکیل صاحبہ! متعلقہ آفیسر کو ساتھ لے کر آئیں۔ متعلقہ افسر بتائے ملازمین کی پروموشن غیرقانونی دی تو کیا نتائج ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ملازمین کی پروموشن کیخلاف ایف بی آر کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اس میں چھوٹے ملازمین کا کردار نہیں، سارا کام ایف بی آر افسروں نے خراب کیا۔ وکیل ایف بی آر نے کہا کہ ملازمین پروموشن کے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وکیل صاحبہ! متعلقہ آفیسر کو ساتھ لے کر آئیں۔ متعلقہ افسر بتائے ملازمین کی پروموشن غیرقانونی دی تو کیا نتائج ہوں گے۔ چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے ملازم ہیں ان کا کیا کردار ہوسکتا ہے؟ افسروں سے پوچھیں پابندی کے بعد کیسے پروموشن اور تعیناتی ہوئی؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جس نے پابندی کے باوجود تعیناتی کی وہ افسر کون تھا؟ افسروں کو چھوڑیں، چیئرمین ایف بی آر کو طلب کر لیتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے متعلقہ افسر کو آئندہ سماعت پر تمام تفصیلات پیش کرنے کاحکم دیتے ہوئے ملازمین کی پروموشن کیخلاف ایف بی آر کی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

 

آئی ڈی: 2020/01/16/3428 

Leave A Reply

Your email address will not be published.