’پی ٹی وی کی نشریات بند کرنا، قبضہ کرنا صرف ڈرامہ تھا‘


اسلام آباد: انسداد دہشتگری عدالت نے پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت کے دوران وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی وی کی نشریات بند کرنا اور قبضہ کرنا صرف ڈرامہ تھا۔ تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگری عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔

پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی بریت کی درخواستوں پر وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 15 روز گزرنے کے باوجود کسی نے دھرنے کو سنجیدہ نہیں لیا۔ عمران خان نے بھی اسلام آباد میں دھرنے میں حصہ لیا۔ دھرنے کے نہتے لوگوں کیخلاف ایف آئی آرز کاٹی گئیں۔  وکیل صفائی نے کہا کہ پر امن مظاہرین کے پاس کوئی راکٹ لانچر اور ٹینک نہیں تھے۔ اسلام آباد میں دھرنا دینے والے مظاہرین کو معلوم ہی نہیں تھا کہ پی ٹی وی کہاں ہے۔  پی ٹی وی کی نشریات بند کرنا اور قبضہ کرنا صرف ڈرامہ تھا۔ وکیل نے مزید کہا کہ مظاہرین حملہ کرنے آئے تھے نہ ہی پارلیمنٹ پر چڑھائی کرنے۔ پولیس لاٹھی چارج کے بعد خواتین اور بچوں کو بچانے کیلئے پارلیمنٹ ہاوس کا جنگلا توڑا گیا۔ جان بچانے کیلئے مظاہرین پارلیمنٹ ہاوس کے لان میں چھپے۔

 جج راجہ جواد عباس نے استفسار کیا کہ کیا مظاہرین تین روز تک پارلیمنٹ ہاوس میں جان بچاتے رہے؟ ، وکیل صفائی نے جواب میں کیا کہ پارلیمنٹ سے باہر چلے جاتے تو مظاہرین کو پولیس گرفتار کر لیتی۔ جج راجہ جواد عباس نے آئندہ سماعت تک تمام ملزمان اور ان پر عائد الزامات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13فروری تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے انسداد دہشتگردی عدالت نے وزیراعظم عمران خان کی بریت پر فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/16/3394

Leave A Reply

Your email address will not be published.