پرویز مشرف خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ چلے گئے

اسلام آباد: پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل جمعرات کو سپریم کورٹ میں دائر کر دی ۔درخواست پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے دائر کی۔ درخواست میں وفاق اور خصوصی عدالت کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کی تشکیل کو ہی غیرقانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ درخواست میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ مقدمہ کی وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی جبکہ سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی گئی۔

پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے 65 صفحات پر مشتمل اپیل دائر کردی گئی۔ مذکورہ درخواست میں وفاق اور خصوصی عدالت کو فریق بنایا گیا ہے اور موقف اختیار کیا گیا ہے کہ خصوصی عدالت نے غداری کیس کا ٹرائل مکمل کرنے میں آئین کی 6 مرتبہ خلاف ورزی کی۔ مقدمے کی وفاقی کابینہ سے بھی منظوری نہیں لی گئی۔

اپیل میں پرویز مشرف نے موقف اپنایا کہ انہیں فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔ مبینہ آئینی جرم کا ٹرائل غیر قانونی طریقے سے چلایا گیا جبکہ سہولت کاروں کو ٹرائل کا حصہ بنانے کی درخواست کو نظر انداز کرکے ٹرائل مکمل کیا گیا۔ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ انہیں بیان ریکارڈ کرانے کا موقع بھی نہیں دیا اور غیرحاضری میں سزا سنا دی گئی۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن غداری کا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہی۔،پرویز مشرف مفرور نہیں لیکن سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ علالت کے باعث سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہو سکتے۔ خصوصی عدالت کے فیصلہ کو کالعدم قراردیا جائے۔ اپیل میں پرویز مشرف کی دہشتگردی  خلاف جنگ میں کامیابیوں، پاکستانی معیشت کی بحالی کیلئے  کاوشیں بھی بیان کی گئی ہیں۔

 

 آئی ڈی: 2020/01/16/3364

متعلقہ خبریں

Leave a Comment