آئی ٹی سیکٹر کی درآمدات میں سالانہ 46 فیصد انڈر انوائسنگ کا انکشاف

فائل فوٹو

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کی درآمدات میں سالانہ 46 فیصد انڈر انوائسنگ کی جارہی ہے۔  پانچ سال میں پانچ ملین ڈالرز کی انڈر انوائسنگ ثابت ہوچکی ہے، جب کہ تین ارب 70 کروڑ روپے کی انڈرانوائسنگ پکڑی گئی ہے۔ 17  امپورٹرز مس ڈیکریشن کررہے ہیں ان امپورٹرز کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت و ٹیکسٹائل کا اجلاس سینیٹر مرزا محمد آفریدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد میں ہوا۔ کسٹمز حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر میں 46 فیصد انڈر انوائسنگ ہو رہی ہے۔ گذشتہ پانچ برس میں 11 ملین ڈالرز کی درآمدات میں سے 5.1 ملین ڈالرز کی انڈر انوائسنگ ثابت ہوچکی ہے، جب کہ تین ارب 70 کروڑ روپے کی انڈر انوائسنگ پکڑی گئی ہے۔ 17 امپورٹرز مس ڈیکریشن کر رہے ہیں۔ ان امپورٹرز کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ اینٹی منی لانڈرنگ کے تین کیسز سندھ ہائی کورٹ میں چل رہے ہیں۔ تحقیقات کی جارہی ہیں کہ رقوم کس ذریعے سے باہر گئیں۔ سٹیٹ بنک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ سے ان لوگوں کے بنک اکاؤنٹس، جن سے رقوم ملک سے باہر گئی، اسکی تفصیل بھی مانگ لی ہے۔ انڈر انوائسنگ کرنیوالوں کیخلاف آئندہ ماہ تک کیس عدالت لے جائیں گے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ 15 مارچ تک انڈر انوائسنگ کے معاملے پر پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔

ایڈیشنل سیکریٹری کامرس طارق الہدی نے کمیٹی کو بتایا کہ سالانہ ساڑھے تین کروڑ موبائل فون اسمگل ہورہے تھے، جب کہ دو ارب ڈالرز کا ایرانی ڈیزل  اسمگل ہو رہا ہے۔ ٹائرز کی اسمگلنگ بہت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے وزارت داخلہ کو ٹاسک دیا گیا تھا۔ ٹیرف کو انڈسٹریلائزیشن کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ آئندہ بجٹ میں انڈسٹریلائزیشن کو فروغ دیا جائے گا۔

 کمیٹی نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس طلب نہ کرنے پر آئندہ اجلاس میں اعلی حکام کو طلب کر لیا۔

 

آئی ڈی: 2020/01/16/3411

متعلقہ خبریں

Leave a Comment