بھائی پر جھوٹا الزام لگا؛ ثابت ہوا تو سیاست چھوڑ دوں گا: سعید غنی


کراچی: ایس ایس پی جمشید ٹاؤن ڈاکٹر رضوان کی رپورٹ میں سعید غنی کے بھائی کا منشیات فروشوں کے سہولت کار ہونے کے انکشاف کے بعد وزیر اطلاعات سندھ نے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کرلی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا ہے کہ سندھ کی سیاست کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کا مزاج نیب کی طرح ہو گیا ہے۔ مجھ پر اور میرے بھائی پر جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ اگر جرم ثابت ہوا تو سیاست چھوڑ دوں گا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ سندھ کے ساتھ سوتیلا پن ہے۔ پنجاب میں آئی جی تبدیل کیے جاتے ہیں، لیکن وہاں ہنگامہ نہیں ہوتا۔ اگر ہم آئی جی تبدیل کرتے ہیں تو پورے ملک میں واویلا شروع ہو جاتا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ متنازعہ بن گئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سندھ پولیس ایک پارٹی بن گئی ہے۔ ان رویوں کے ساتھ نوکریاں نہیں کی جاتی۔ سعید غنی کا کہنا تھا کہ کلیم امام کی تعیناتی کے بعد سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس پر عوام کا اعتماد کم ہوا ہے۔ دعا منگی کیس میں پولیس ان کے گھر والوں کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار نہیں تھی۔

صحافیوں سے گفتگو کے دوران سعید غنی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس افسر کی تعیناتی کے لئے کسی سے سفارش نہیں کی۔ جب انہوں نے آئی جی، ایڈینشل آئی جی کو منشیات کا بتایا، جس کے بعد کارروائیاں ہوئی ہیں۔ وزیر اطلاعات سندھ کا کہنا تھا کہ مجھے عدالت میں جانا پڑے، کیس کرنا پڑے، میں کسی بھی حد تک جاؤں گا۔ ہم نے کسی کی سفارش کی نہ کسی کے بارے میں بات کی۔ سعید غنی نے کہا کہ میں نے عزت کمائی ہے۔ اگر مجھ پر الزام ثابت ہوا تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ میرے خلاف ترتیب دی جانے والی رپورٹ کی مستندا فسران سے تصدیق کراوائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر میں جرائم بڑھ رہے ہیں۔ میری ڈی آئی جی اور ایڈيشنل آئی جی سے ملاقات نہیں ہو رہی تھی، جبکہ رضوان صاحب کو یہ شکایت تھی کہ میں نے ڈی آئی جی کو شکایت کیوں کی؟ سعید غنی نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ رپورٹ درست ثابت ہو جائے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبہ سندھ کی پولیس کا مزاج نیب جیسا ہو گیا ہے۔ ہم نے آئی جی کو ہٹانے کے لئے جو میڈٰیا میں بات کی جس کے بعد یہ رپورٹ مظر پر آگئی۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ایک شخص ایم کیو ایم چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں آیا تو پولیس اس کے پیچھے پڑھ گئی۔ پولیس جرائم پیشہ افراد کیساتھ 20 بے گناہوں کو بھی اٹھا لیتی تھی۔

واضع رہے کہ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) جمشید ٹاؤن ڈاکٹر رضوان کی تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں سندھ کے وزیر سعید غنی کے بھائی کے ٹارگٹ کلرز اور منشیات فروشوں کے مابین روابط کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ تفتیشی رپورٹ میں بااثر افراد ، قاتلوں اور منشیات فروشوں کے ذریعہ چلائے جانے والے جرائم کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرحان غنی ٹارگٹ کلرز اور منشیات فروشوں کا سہولت کار ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/17/3705

Leave A Reply

Your email address will not be published.