13ملازمین جنہیں حکومت پنجاب نے27سال سے تنخواہ نہیں دی


جھنگ: ”سائلین تاحیات آپ کے اور آپکے بچوں کے لئے دعاگو رہیں گے۔ اللہ آپ کا اقبال بلند کرے۔آمین“۔ یہ اس درخواست کی آخری سطر ہے جو سیکرٹری ہاﺅسنگ، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ،حکومت پنجاب کے نام لکھی گئی ہے۔ یہ درخواست حکومت پنجاب کے ان 13مستقل ملازمین نے لکھی ہے جو مسلسل27 سالوں سے تنخواہوں کے منتظر ہیں۔

اس درخواست کے مطابق حکومت پنجاب ضلع کونسل جھنگ کے ان مستقل ملازمین کو آخری بار تنخواہ اکتوبر 1992میں ملی تھی۔ یہ چھوٹے درجے کے ملازمین مثلاً پلمبر، ڈرائیور،نائب قاصد، مالی وغیرہ تھے۔ پنجاب حکومت نے  1982میں انہیں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ضلع جھنگ میں ورک چارج ملازمین کے طور پر بھرتی کیاتھا۔ نومبر1986میں سیکرٹری ہاوسنگ اربن ڈویلپمنٹ لاہور، حکومت پنجاب نے ان ملازمین کا ضلع کونسل جھنگ میں تبادلہ کر دیا۔ خوش قسمتی سے ضلع کونسل جھنگ نے جون 1987 میں ان ملازمین کو مستقل کردیا اور ان کی سروسز بک بھی بنا دی گئی۔ مگر بدقسمتی کہ پانچ سال بعد یکم نومبر 1992 کو سیکرٹری ہاﺅسنگ پنجاب کے حکم پر ملازمین کو دوبارہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ضلع جھنگ میں ٹرانسفر کر دیا گیا، جس نے انہیں مستقل ملازمین ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ضلع کونسل جھنگ نے بھی ملازمین کو واپس لینے سے انکار کر دیا اور ان کی تنخواہیں بند کر دی گئیں۔

اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے ان ملازمین نے پنجاب لیبر ایپلٹ ٹریبیونل لاہور سے رجوع کیا۔ سالہا سال کی قانونی جدوجہد کے بعد عدالت نے مارچ 2011 میں ان ملازمین کے حق میں فیصلہ سنایا۔ مگر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے اس پر عملدرآمد نہیں کیا اور فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ میں کئی سال تک اس اپیل پر سماعت چلتی رہی اور آخر کار مارچ 2019 میں لاہور ہائیکورٹ نے بھی ملازمین کے حق میں فیصلہ دیا۔ مذکورہ دونوں عدالتوں نے محکمے کو ملازمت کی بحالی، تنخواہوں اور مراعات کی ادائیگی کے احکامات دئیے۔ مگر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیلنج کر دیا۔ ستمبر2019میں سپریم کورٹ کے جسٹس گلزار احمد (موجودہ چیف جسٹس پاکستان) اور جسٹس منیب پر مشتمل دو رکنی بنچ نے بھی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ملازمین کے حق میں فیصلہ دیا۔

سید اعجاز علی شاہ، غلام جعفر،قیصر سلیم، محمد حیات،خضر حیات،اللہ دتہ،محمد نواز، بشیر احمد، محمد نواز، اللہ دتہ ، ضمیر الحسن ،محمد نواز اورحسرت حسین اپنے حقوق کے لئے سالہا سال سے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ان میں سے دو ملازمین انتہائی کسمپرسی کی حالت میں وفات پا چکے ہیں۔ دوسری جانب متعلقہ حکام ان ملازمین کی بحالی اور ان کی تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کر رہے۔

آئی ڈی: 2020/01/17/3644

Leave A Reply

Your email address will not be published.