تعلیمی نصاب میں تصوف کو شامل کرنے کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے تعلیمی نصاب میں تصوف کو شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت میں تعلیم کا ترقیاتی بجٹ 29 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا، لیکن بعض عناصر منفی ایجنڈا پھیلا رہے ہیں کہ کہ وفاق نے تعلیمی بجٹ کم کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ دگنا تو ہو سکتا ہے مگر کم نہیں ہوسکتا۔ پی ایچ ڈی اور تحقیق کا معیار مزید بلند کیا جائے۔ جامعات میں بچوں کو تاریخ اور تصوف نہیں پڑھایا جاتا۔ اب تعلیمی نصاب میں تاریخ اور تصوف کو بھی شامل کیا جائے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو تعلیم تک آسان رسائی دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت معاشی مشکلات کے باوجود ایچ ای سی سے متعلق مالی ضروریات پوری کرے گی۔ وزارتوں کی طرز پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی کو مالی معاملات سے متعلق اختیارات دیئے جائیں تاکہ فنڈز کے اجرا میں رکاوٹ نہ آئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں ہماری اقدار اور تہذیب کو مغرب اور دیگر بیرونی کلچر سے سنگین خطرات ہیں۔ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے نوجوان نسل کو صوفیائے کرام اور علامہ اقبال جیسے مفکرین کے فلسفے کی سوچ سے آگاہ کیا جائے۔ وزیراعظم نے یونیورسٹیوں کی مالی ضروریات پوری کرنے اور وسائل کی فراہمی کے لیے وزیر تعلیم کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی یونیورسٹیوں کی خود مختاری، انتظامی معاملات کی بہتری و دیگر مسائل کا جائزہ لیکر وزیراعظم کو سفارشات پیش کرے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت 130 ارب روپے نوجوانوں پر خرچ ہوں گے۔ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر بھرپور وسائل خرچ کر رہے ہیں۔ غیر ضروری طور پر ٹیکس کا پیسہ ضائع نہ ہونے دیا جائے۔ تعلیم کے لئے مزید رقم بھی درکار ہو گی تو فوری دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پڑھے لکھے معاشرے کی اہمیت پر یقین رکھتی ہے۔

وزیراعظم نے وزیرتعلیم کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ یونیورسٹیوں کے قیام اور نصاب سے متعلق  صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں۔

آئی ڈی: 2020/01/17/3681 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment