ایف اے ٹی ایف کی شرط؛ قائمہ کمیٹی داخلہ نے باہمی قانون معاونت بل منظور کر لیا

اسلام آباد: سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے منی لانڈرنگ، دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت اور دیگرسنگین جرائم میں ملوث ملزموں کے خلاف کارروائی سے متعلق بل منظور کرلیا۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مذمتی قرار داد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

تفصیلات کے مطابق کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چئیر مین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

چیئرمین کمیٹی نے باہمی قانونی معاونت بل 2020 پر کہا کہ بل میں پیش کی گئی ترامیم درست ہیں۔ پاکستان کو بلیک لسٹ سے بچنے کے لئے بل پاس کرنا ضروری ہے۔ بیس جنوری تک ایف اے ٹی ایف کو بتانا ہے کہ باہمی قانونی معاونت کا قانون بنا دیا گیا ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ آج بل منظور ہو گیا تو رات گئی بات گئی والی بات ہوگی۔ حکومت جلد بازی میں کام کر رہی ہے۔

وفاقی وزیرپارلیمانی امور اعظم سواتی نے کمیٹی کو بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے باعث بل منظور کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ ساٹھ  روز کے اندر اپوزیشن سینیٹرز کی ترامیم کو بل میں شامل کیا جائے گا۔

کمیٹی نے میوچول لیگل اسسٹنس بل 2020 متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ چیئرمین کمیٹی رحمان ملک نے ممبران کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ان ارکان کا مشکور ہوں جنہوں نے اعتراضات کے باوجود بل کو ملکی مفاد میں پاس کیا۔

آئی ڈی: 2020/01/17/3702

متعلقہ خبریں

Leave a Comment