اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیلسن منڈیلا کا تذکرہ

Islamabad High Court

اسلام آباد: وفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نے جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار سے متعلق رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کردی۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سزا یافتہ مجرم بیمار ہوجائے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اسے رہا کرے۔ ہفتہ کو جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کی۔ وفاقی کی جانب سے وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری پیش ہوئیں۔شیری مزاری نے قیدیوں کی حالت زار سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جیلوں میں زیر ٹرائل قیدیوں کے مسئلے کا حل ضروری ہے۔رپورٹ میں خواجہ سراوں کے لیے سپیشل یونٹ کی سفارش کی ہے۔قیدیوں کے اکاونٹ تک فیملی کورسائی نہ ہونے پرکئی خاندان مشکلات کا شکار ہیں۔رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ اکاونٹس تک بیوی کورسائی دی جائے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیلنسن منڈیلا نے کہا تھا کہ کسی قوم کی گورننس کا جائزہ لینا ہے توجیلوں کی حالت دیکھیں۔سزا یافتہ مجرم کو بھی جینے کا حق ہے۔مجرم کو جیل میں ٹارچر کےلیے نہیں ڈالا جاتا۔نبی پاکﷺ کا فرمان ہے کہ 100 مجرم چھوٹ جائیں لیکن ایک بے گناہ کو سزانہ ہو۔ہرمذہب کہتا ہے انسان سے انسان کے طورپرسلوک کیا جائے۔۔انگریزسے زیادہ شریعت اور فقہ میں انسانی حقوق واضح ہیں۔قیدیوں کے حقوق کی بات اسلامی شریعت اور فقہ میں ہے۔

چیف جسٹس نے شیریں مزاری کے کام کو سراہتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جوباتیں کیں اور جو کام کیا اس سے بہت چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔آپ کا کام مکمل ہو چکا توعدالت آرڈر پاس کر دے۔شیریں مزاری بولیں تمام کام مکمل کر لیا۔۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا جیل میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے حوالے سے بھی کام کیا۔۔ شیریں مزاری نے عدالت کو بتایا کہ بچوں سے زیادتی کے کیسز پر بھی آگاہی مہم چلا رہے ہیں۔جیل میں بچوں اور خواتین سے زیادتی کے حوالے سے بھی رپورٹ میں لکھا ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی۔شیری مزاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا کشمیر کےمعاملے پرموقف سخت اور واضح ہے۔عالمی برادری سے کشمیریوں کےلیے امداد کی فراہمی کامطالبہ کیا ہے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/18/3719

متعلقہ خبریں

Leave a Comment