فاٹا میں بلا سود قرضوں کی مد میں تین ماہ میں ساٹھ کروڑ روپے تقسیم

صحت سہولت پروگرام کے تحت پچاس فیصد سے زائد کارڈز تقسیم کئے جاچکے ہیں


پشارو: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع اور ایف آرزمیں انصاف روزگار سکیم کے تحت باقی ماندہ 1,715 درخواست گزاروں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لئے درکار پانچ سو ملین روپے فوری طور پر فراہم کرنے کی منظوری دی ہے ، جبکہ مارچ 2020کے آخر تک صوبہ بھر میں قرضوں کی تقسیم کا اجراءیقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ مزید برآں انہوں نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں صحت سہولت پروگرام کے تحت مکمل اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی اور واضح کیا کہ صحت انصاف کارڈ کے تحت سہولیات کے لئے کاو¿نٹرز ہسپتالوں کی مین انٹری پر موجود ہونے چاہئیں، تاکہ کسی ایک شخص کو بھی خدمات کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ صحت سہولت پروگرام شعبہ صحت میں حکومت کا سب سے اہم اور بڑا منصوبہ ہے جو خصوصی توجہ اور بھر پور کاوش کا متقاضی ہے ۔ انہوں نے صحت سہولت پروگرام کو صوبے کے سو فیصد عوام تک جلد توسیع دینے اور پورے پاکستان کے بڑے ہسپتالوں کو اس پروگرام میں ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں انصاف روزگار سکیم اور صحت سہولت پروگرام سے متعلق دو علیحدہ علیحدہ اجلاسوں کی صدارت کر رہے تھے ۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا ، وزیر صحت شہرام خان ترکئی ، صوبائی وزیر محب اللہ خان، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، منیجنگ ڈائریکٹر بینک آف خیبر، چیف ایگزیکٹیو آفیسر صحت انصاف پروگرام برائے ضم شدہ اضلاع، سٹیٹ لائف اینڈ انشورنس کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ ذمہ داران نے اجلاسوں میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ کو ضم شدہ اضلاع میں انصاف روزگار سکیم کے تحت قرضوں کی تقسیم پر پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ آخری تین ماہ میں قرضوں کی تقسیم میں پیش رفت کافی تیز ہوئی ہے ، پہلے تین ماہ میں تین کروڑ روپے جبکہ آخری تین ماہ میں ساٹھ کروڑ روپے تقسیم کئے گئے ہیں۔ اب تک 2775 افراد میں مجموعی طور پر 622.228ملین روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ قرضوں کی فراہمی کے لئے ہر ضلع کے حساب سے اور حقیقت پسندانہ درجہ بندی کے تحت کوٹہ رکھا گیا ہے اور نا انصافی کے تمام تر امکان ختم کر دیئے گئے ہیں ۔مارچ تک پہلے ایک ارب روپے کی تقسیم مکمل کر لی جائیگی۔ وزیراعلیٰ نے گزشتہ تین ماہ کے دوران پروگرا م کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو پروگرام کے لئے درکار پانچ سو ملین روپے جلد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اور واضح کیا کہ حکومت حسب ضرورت وسائل کی فراہمی بروقت ممکن بنائے گی۔ انہوں نے مارچ کے آخر تک صوبہ بھر میں قرضوں کی تقسیم کا عمل بھی شروع کرنے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ کو صحت سہولت پروگرام پر پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں وفاقی حکومت کے ذریعے صحت سہولت پروگرام پر عملدرآمد کیا جارہا ہے ، پچاس فیصد سے زائد کارڈز تقسیم کئے جاچکے ہیں تاہم قومی شناختی کارڈ پر تمام قبائلی عوام کوعلاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جارہی ہےں ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں بلا تاخیر کاو¿نٹرز فعال بنائے جائےں، اور عوام کی آگاہی کے لئے مہم مزید مو¿ثر بنائی جائے، تاکہ ہر فرد کو معلوم ہو سکے کہ صحت انصاف کارڈ کے تحت کونسی سہولیات کس طریقے سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہسپتالوں میں پروگرام کے تحت علاج معالجہ یقینی بنانے کے لئے مقامی سطح پر نگرانی کا مو¿ثر عمل بھی نا گزیر ہے ۔ متعلقہ ہسپتالوں میں علاج کے لئے آنے والا ایک فرد بھی بغیر علاج معالجہ کے واپس نہیں جانا چاہیئے، مسائل کی بروقت نشاندہی اور ازالے کا طریقہ کار موجود ہونا چاہیئے۔ وزیراعلیٰ نے ضم شدہ اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات کے حوالے سے علیحدہ سے بریفنگ طلب کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صحت سہولت پروگرام کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے تمام تر صلاحیتیں صرف کی جائےں، کیونکہ یہ صوبائی حکومت کا شعبہ صحت میں سب سے اہم منصوبہ ہے ۔ محمودخان نے صوبے کے بندوبستی اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کے تحت سو فیصد عوام کیلئے علاج معالجہ کا اجراءیقینی بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ نا صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے بڑے ہسپتال اس پروگرام میں شامل کئے جائیں ، تاکہ بڑی اور خطرناک بیماریوں کے علاج کے لئے عوام کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے صوبے کے عوام کو قومی شناختی کارڈ پر سہولت دینے کی غرض سے نادرا تک رسائی کے لئے انتظامانت بروقت مکمل کرنے اور اس مقصد کے لئے محکمہ خزانہ میں پیش کی گئی مجوزہ سمری کی جلد منظوری لینے کی بھی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام کو آسان اور بہتر طریقے سے صحت کی سہولیات کی فراہمی حتمی مقصد ہے جس کے حصول میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہونی چاہئیے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.