2019 میں 60سے زائد صحافیوں کو انسداد دہشت گردی کے 35 مقدمات میں نامزد کیا گیا، پاکستان میڈیا فریڈم رپورٹ

کونسل آف پاکستان نیوزپیپرایڈیٹرز نے پاکستان میڈیا فریڈم رپورٹ 2019 جاری کر دی۔


کراچی: رپورٹ کے مطابق پاکستان میں میڈیا کی آزادی کو سخت خطرات کا سامنا ہے۔ 2019 میں پاکستانی میڈیا کو سخت پابندیوں، سختیوں، قتل اور سنسرشپ کے مسائل کا سامنا رہا۔ صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران ملک بھر میں سات صحافیوں کو قتل اور 15 سے زائد کو زخمی کر دیا گیا۔ قتل ہونے والے صحافیوں میں عروج اقبال، مرزا وسیم بیگ، محمد بلال خان، علی شیر راجپراور ملک امان اللہ خان شامل تھے۔ انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت 35 مقدمات میں 60سے زائد صحافیوں کو نامزد کیا گیا پاکستان پریس فریڈم رپورٹمین بتایا گیا ہے کہ تحریری مواد رکھنے کے الزام میں ایک صحافی کو پانچ سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے ۔ بظاہرنامعلوم عناصر اور غیر ریاستی عوامل کی جانب سے بھی صحافیوں اور میڈیا کے اداروں کو دھمکیوںاور حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ روزنامہ ڈان کے دفاتر کا گھیراو کیا گیا، چیف ایڈیٹر ظفر عباس و انتظامیہ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد معلومات تک رسائی کا صوبائی قانون بنانے میں خیبرپختونخواہ پہلے نمبر پر رہا۔ وفاق، پنجاب اور سندھ نے خیبرپختونخواہ کے بعد معلومات تک رسائی کا قانون بنا یا۔ بلوچستان میں معلومات تک عام شہریوں کی رسائی 2019 میں بھی ایک خواب ہی رہی۔ سائبرقوانین کو میڈیا کی آزادی پر قدغن لگانے کے لیے کسی نہ کسی بہانے سے سال 2019 میں بھی بھرپور استعمال کیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے میڈیا کے گرد شکنجے کو مزید سخت کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ خصوصی میڈیا ٹریبونلز بنانے کا بھی اعلان کیاگیا، سی پی این ای اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی شدید مخالفت پرواپس لیا گیا۔ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میںخراب ترین کارکردگی والے 180 ممالک میں پاکستان کا نمبر 142 واں ہے، سی پی این ای کے مطابق پیمرا نے ٹیلی ویژن چینلز کو بے تحاشا نوٹسز بھیجے، اینکرزپرغیرقانونی پابندیاں لگائیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف کی ضمانت پر رہائی کا معاملہ ٹاک شوز میں زیربحث نہ لانے کا حکم دیاگیا۔ نیوز چینلز کواحکامات صادر کیے گئے کہ پی ایم ایل ن کی رہنما مریم نواز کی پریس کانفرنس کو براہ راست کوریج نہ دی جائے۔ خلاف ورزی کے نام پر 21 ٹی وی چینلز کو نوٹس بھی جاری کیے گئے۔جیوٹی وی میں سابق صدر آصف علی زرداری کے انٹرویو پر مبنی براہ راست نشریات کوشروع ہونے کے فورا بعد بند کرادیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان کی کوریج کرنے پر جیو نیوز، 24 نیوز، ابتک، کیپٹل اور ڈان نیوزکی نشریات کو بندکیا گیا، وزیراعظم کی شکایت پر چینل 24 نیوز کو نوٹس جاری کر کے 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیاگیا۔ کم ازکم 60 صحافیوں کے خلاف انسداد دہشت گردی اور دیگر ایسے قوانین کے تحت 35 مقدمات درج کیے گئے۔ مقدمات کا سامنا کرنے والے 50 سے زیادہ صحافیوں کا تعلق صرف صوبہ سندھ سے تھا۔، صدر سی پی این ای عارف نظامی نے سفارشات پیش کیں کہ صحافیوں کی حفاظت کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر خصوصی قوانین نافذ کیے جائیں۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر خصوصی پراسیکیوٹرز تعینات کیے جائیں۔ میڈیا ہاوسز اور صحافتی تنظیمیں اپنا ضابطہ اخلاق بنا کر اس پر عمل کریں ۔ میڈیا ہاوسز کی سطح پر سیفٹی پالیسی، سیفٹی پروٹوکول اور سالانہ سیفٹی آڈٹ کے رجحان کو بھی فروغ دیا جائے۔ سیفٹی آڈٹ سے صحافیوں اور دیگر عملے کو ممکنہ خطرات کا پہلے سے اندازہ لگا کر روک تھام کی جا سکے گی۔ پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کی شق 11، 20 اور 37کو ختم اور شق 09 اور 10 میں موجود ابہام دور کیا جائے تاکہ صحافی اس کا نشانہ نہ بن سکیں۔ صحافیوں کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت درج مقدمات کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.