آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں: وزیراعلی کے پی

پشاور:خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے صوبہ بھر کی صوبائی و ضلعی انتظامیہ کو ذخیرہ اندوزوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء خاص کر آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے تاکہ گندم اور دیگر متعلقہ اجناس کی ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کی جائے۔انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی کہ و ہ صوبے کے تمام علاقوں میں اپنی ٹیمیں بھیج کر ذخیرہ اندوزی کے خلاف بھر پور کارروائی کریں۔وزیر اعلیٰ نے تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی کہ وہ کنزیومر کمیٹیوں کے اجلاس فوری اور باقاعدگی سے بلائیں تاکہ آٹا اور دوسری روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کے نرخوں پر کنٹرول کیا جا سکے۔ تمام ماریکٹس سے متعلق مجموعی رپورٹس اور قیمتوں میں استحکام سے متعلق معلومات پی ایم آر یو کو بھیجیں تاکہ وہ اس بارے میں رپورٹس وزیر اعلیٰ کو بھیج سکیں۔

واضح رہے کہ ان تمام معاملات کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان خود مانیٹر کریں گے۔درایں اثناء وزیراعلی محمود خان نے نانبائیوں کو مخصوص ڈیلروں کے ذریعے کم نرخ پر آٹا فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ضلعی انتظامی اور کنزیومر کمیٹی کا اجلاس پشاور میں جاری ہے جس میں نانبائی ایسوسی ایشن کے عہدیدار بھی موجود ہیں۔

نانبائی ایسوسی ایشن نے روٹی 15 روپے کرنے کا مطالبہ کیا جسے حکومت نے مسترد کردیا۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ وہ کسی صورت عوام پر بوجھ نہیں ڈالنے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب نے فائن آٹے کی ترسیل پر پابندی ہٹا دی ہے اسلئے روٹی کی قیمتیں بڑھانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نان بائیوں کو کنٹرول ریٹ پر فائن آٹا دینے کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب فائن آٹے سمیت تمام طرح کا آٹا مارکیٹ میں دستیاب ہے تو پھر قیمت کیوں بڑھائی جائے۔انہوں نے کہا کہ نانبائی ایسوسی ایشن نے پہلے بھی حکومت سے تعاون کیا ہے اور آئندہ بھی یہ تعاون جاری رہے گا تاہم توقع ہے کہ نان بائی بھی حکومت سے تعاون جاری رکھیں گے۔

آئی ڈی: 2020/01/19/3788

اپنا تبصرہ بھیجیں