میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں


جو لوگ تین وقت کا کھانا کھانے کی عادت سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں، جو موٹاپے سے تنگ ذہنی دباو کا شکار ہیں، جنھیں ورزش کا وقت نہیں ملتا۔ جن کی بیگمات اپنے شوہروں کی دعوتوں کی عادت سے تنگ ہیں ان کیلئے خوشخبری۔۔۔ جناب! حکومت نے اس کا حل نکا ل لیا ہے۔ ہماری موجودہ حکومت کو گزشتہ حکومت سے زیادہ اپنی عوام کی صحت کا خیال ہے۔ تبھی انہوں نے آٹا پھر سے مہنگا کر دیا، تاکہ عوام ا پنی کم آمدنی کا زیادہ حصہ آٹے پر نہ لگا سکے۔ کیونکہ بجلی، گیس، پٹرول، مکان کا کرایہ، کپڑے اور جوتے، ان پر خرچ کرنے کیلئے کچھ حصہ آٹے کے بجٹ میں سے نکل آئے۔ اب آپ تیار ہو جائیں۔ جہاں آپ ایک روٹی کھاتے تھے، اسے آدھا کردیں۔ دوپہر کے کھانے کے وقت رات کے کھانے کی فکرمیں دل لگا کر کام کریں تاکہ بھوک کا احساس نہ ہو۔ عزیز و اقارب کو کھانے پر کم دعوتیں دیں۔ ویسے ہماری حکومت نے نوکریوں اور کاروبار کے مواقع کی جگہ لنگر خانے زیادہ کھول رکھیں ہیں وہاں چلے جائیں تاکہ تبدیلی کا بھرم رکھا جا سکیں۔
ہمارے معاشرے کے طبقات ہیں امیر، متوسط ،غریب، ملازمین، کاروباری افراد، مزدور آج کل سب کا حال ایک ہی جیسا ہے۔ اسی طرح جانوروں کے بھی طبقات ہیں، ایک وہ، جن کی سرپرستی حکومت کو ورثے میں ملی ہے، یعنی چڑیا گھروں کے جانور، اور ایک وہ جن کو افسر شاہی نے اپنے شوق میں پال رکھا ہے۔
عوام کے جانوروں کا بھی عوام کی طرح کا حال ہے۔ آئے دن چڑیا گھر میں جانوروں کے کھانے کیلئے فنڈز نہیں ہوتے۔ پر جیسی ہماری سادہ حکومت کے ٹھاٹھ ہیں ویسے ہی ان کے پالے ہوئے جانوروں کے بھی۔
کیا آپ کو پتا ہے؟؟ پنجاب پولیس نے فضول خرچی کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جی جناب! فیصل آباد میں افسر شاہی کو سلامی دینے کیلئے رکھے گئے 24 گھوڑوں کو 47 لاکھ روپے کا چارہ کھلا دیا گیا ہے۔ ہاہاہا۔۔۔ واقعی
یعنی افسر شاہی کی سلامی کیلئے مخصوص یہ 24 گھوڑے سالانہ 47 لاکھ روپے کا چارہ کھاتے ہیں؟ حیرانگی ہے!
تھورا سا ان کے بارے میں آپ کو بتاتی چلوں یہ 24 گھوڑے جنہیں پورے سال میں 2 سے 3 بار میدان میں لایا جاتا ہے اور پورا سال ان کا خرچہ اٹھایا جاتا ہے۔ افسر شاہی کی سلامی کیلئے رکھے گئے یہ 24 گھوڑے انتہائی ناز و نعم سے پالے جارہے ہیں، انہیں چارے کے طور پر سبز چارہ، دلیہ، چوکر اور ناریل کا تیل پیش کیا جاتا ہے۔ گویا زرداری صاحب کے گھوڑوں سے مقابلہ!
ہمارے سابق صدر بھی اعلیٰ نسل کے گھوڑے پالنے کا شوق رکھتے ہیں۔ بینظیر کے دور حکومت میں انہوں نے وزیر اعظم ہاوس میں اصطبل بھی بنا رکھا تھا۔ زرداری صاحب کے گھوڑوں کی تواضع سیب کے مربعوں سے کی جاتی تھی جس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔
ویسے گھوڑے مجھے بھی بہت پسند ہیں اور ان کے چارہ کھانے پر کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ یہ ان کا حق بنتا ہے۔ لیکن انتہائی غریب ملک جس کے پاس آٹا نہیں ہے، امیر، متوسط اور غریب تینوں طبقات کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، وہاں کی افسر شاہی کی سوچ پر حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے پروٹوکول کیلئے اتنے گھوڑے پال ہی کیوں رکھے ہیں؟
صدقے اپنے پنجاب حکومت کی سادگی پر، وزیر اعلی کی شخصیت سے سادگی ٹپکتی ہے، جبکہ شوق لاکھوں میں تولے جاتے ہیں۔ جبکہ انسان کی روٹی طول میں کم اور قیمت میں بڑھ گئی ہے۔ آٹے کی بڑھتی قیمتوں کے بعد مارکیٹ میں دستیاب 20 کلو آٹے کا تھیلا 15 کلو کا کر دیا گیا ہے۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا کی دیکھا دیکھی سندھ میں بھی آٹا مہنگا ہو گیا ہے۔ سندھ میں تیار ہونے والا آٹا بلوچستان کے راستے مبینہ طور پر افغانستان اسمگل ہو رہا ہے، جس کے باعث صوبے میں گندم اور آٹے کا بحران شروع ہوا۔ حکومت کی سادگی کا یہ عالم ہے کہ کراچی سے یومیہ آٹا کے 100 تا 150 ٹرک بلوچستان کے راستے افغانستان اسمگل ہورہے ہیں جس کے باعث سندھ میں بحران پیدا ہو رہا ہے، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جبکہ ہماری سادہ حکومت کے جہانگیر ترین ا سمگلنگ سے قطع نظر یہ بتاتے ہیں کہ سندھ میں آٹے کا بحران ختم کرنے کیلئے حکومت نے گندم کی درآمد اور اس پر درآمدی ڈیوٹی ختم کرنےکا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔ ان سے کوئی یہ پوچھے بحران تو ختم ہو جائے گا پر وہ مہنگا آٹا خریدے گا کون؟
جو 693,436 میڑک ٹن گندم ہم نے 2018 سے 2019 کے درمیان 29 روپے فی کلو برآمد کی وہی پاکستان میں اب 70 فی کلو مل رہی ہے۔ یہ حالت صر ف دو یا تین صوبوں کی نہیں پورے پاکستان کی ہے۔ نالائق پالیسوں کی آلودگی نے پورے ملک کو ہی اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔
جب بھی وزیر اعظم ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو میں سوچتی ہو ں یہ یقینا رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کی مدینہ آمد سے قبل کی بات کر رہے ہیں، کیونکہ جو مدینہ آپ صلى الله عليه و سلم کی آمد کے بعد تھا اس میں تو لوگوں ریلیف ملا تھا۔ فلاح کی مثالیں قائم ہوئیں، ایسا قانون بنا جو امیر غریب سب کیلئے ایک تھا۔ لیکن پاکستان میں آنے والی ہر حکومت نے صرف اپنا اور اپنے حواریوں کا سوچا۔ آخر کیوں زندگی کو اتنا تنگ کیا جا رہا ہے۔ اگر سیاستدانوں اور پالسیاں بنانے والوں کے اردگرد کے لوگ خوش ہیں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ پورے پاکستانی عوام کی ترجمانی کررہے ہیں۔ یہ کھیل کب تک یونہی چلتا رہے گا۔ عوام کو کب تک اناج کی فکر میں مبتلا رکھا جائے گا ۔ تھورا ہمیں ریلیف دیں تاکہ اناج کے حصول فکر کے علاوہ بھی زندگی کی بہتری کیلئے سوچا جا سکے۔

 

آئی ڈی: 2020/01/20/3815

Leave A Reply

Your email address will not be published.